الاربعاء 4 رمضان 1442 هـ
آخر تحديث منذ 6 ساعة 28 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 4 رمضان 1442 هـ آخر تحديث منذ 6 ساعة 28 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

کیا وقت کے نکلنے سے قطروں کی بیماری میں مبتلا شخص کا وضو ٹوٹ جاتا ہے

مشاركة هذه الفقرة

کیا وقت کے نکلنے سے قطروں کی بیماری میں مبتلا شخص کا وضو ٹوٹ جاتا ہے

تاريخ النشر : 3 ذو الحجة 1437 هـ - الموافق 06 سبتمبر 2016 م | المشاهدات : 911

اگر کسی شخص کو پیشاب کے قطروں کی بیماری ہو اور وہ طواف ادا کرنے کے لئے وضو کرے تو کیا وقت کے نکلنے سے اس کے طواف میں کوئی حرج آئے گا؟

هل ينتقض وضوء من به سلس بخروج الوقت؟

جمہور کے مذہب جس میں احناف شوافع اور حنابلہ شامل ہیں ان کے مذہب کے مطابق ایسا شخص جس کو ہمیشہ حدث لاحق ہوتا ہو تو اس شخص پر ہر نماز کے وقت میں وضو کرناواجب ہے کیونکہ ایک نماز کے وقت کے نکلنے یا دوسری نماز کے وقت کے داخل ہونے پر اس کا وضو ختم ہو جائے گا تو جن کے نزدیک طواف کے لئے طہارت شرط یا واجب ہے ان کے قول کے مطابق طواف ٹھیک نہیں ہوگا ۔ اور جہاں تک میرا خیال ہے تو میرے نزدیک ایسا شخص جس کو ہمیشہ حدث لاحق ہوتا ہو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا مگر یہ کہ اس کا وضو اس مرض یا اس حدث جس میں وہ مبتلا ہے اس کے علاوہ کسی اور نواقض وضو میں سے کسی حدث کی وجہ سے ٹوٹے اور ایسا شخص میر ے نزدیک طواف کر سکتا ہے اگر چہ وقت نکل بھی جائے یا دوسری نماز کا وقت داخل ہوجائے کیونکہ راجح قول یہی ہے کہ طواف کے ٹھیک ہونے اور اس کے جائز ہونے کے لئے وضو کی شرط نہیں یعنی طواف بغیر وضو کے ٹھیک اور جائز ہے ، واللہ أعلم۔

أ.دخالد المصلح

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف