السبت 19 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 41 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 19 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 41 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

ریکارڈ شدہ اذان کا حکم

مشاركة هذه الفقرة

ریکارڈ شدہ اذان کا حکم

تاريخ النشر : 8 ذو الحجة 1437 هـ - الموافق 11 سبتمبر 2016 م | المشاهدات : 921

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اما بعد۔۔۔ جناب من! ریکارڈ شدہ کیسٹ سے اذان بلند کرنے کا کیا حکم ہے اگر اس پر اکتفا کرکے مؤذنین سے بے نیازی اختیار کی جائے ؟ اور کیا اس کا جواب دینا مشروع ہے ؟ اور ہسپتالوں اور حکومتی اجلاسوں میں اس کا کیا حکم ہے ، دخولِ وقت کے اعلان کرنے کے لئے ، اس کے ذریعے مساجد میں مؤذنین کے اذان سے استغناء برتتے ہوئے ؟

من أحكام الأذان المسجل.

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حامدا و مصلیا

امابعد۔۔۔

ریکارڈ شدہ آوازوں کی حقیقت یہ ہے کہ ان آوازوں کو زمانہ ٔ ماضی میں جس نے ریکارڈ کیا ہوتا ہے تو اسی کی آواز کو دوبارہ دہراتی ہیں ، اور اس اعتبار سے یہ آوازیں ان آوازوں جیسی نہیں ہوتیں جو زمانۂ حال میں ہوتی ہیں ، نہ تو ارادے اور نیت کے اعتبار سے اور نہ ہی وقوع اور حقیقت کے اعتبارسے ، اسی بنیاد پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ریکارڈ شدہ آوازوں کے ذریعے اذان بلند کرنے پر اکتفا ء حاصل کرنا غیرکافی ہے، اس لئے کہ اس میں نیت کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ عمل کی اصل ہے ، جیسا کہ صحیحین میں حضرت عمر ابن الخطاب ؓسے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ‘‘، اس لئے کہ اس صورت میں مکلّفین کاعدمِ اشتغال لازمی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے خود ذکراللہ کا مطالبہ کیا ہے ،جیسا کہ ارشادِنبویﷺ ہے : ’’ جب نماز کا وقت ہو تو تم سے کوئی اذان دے‘‘(رواہ البخاری۸۱۹ و مسلم ۶۷۴عن مالک بن الحویرثؓ) لہٰذا اذان کا جواب دینا اور اذان سن کر مسجد آنا وغیرہ جتنے بھی مبنی احکام ہیں وہ سب ا س ریکارڈ شدہ اذان کے لئے ثابت نہیں ہوتے، اور نہ ہی آپ ﷺ کے اس قول میں شامل ہے جس کو آپ ﷺ نے مستحب قرار دیا ہے کہ :’’جب تم اذان سنو تو تم بھی وہ کلمات کہو جو مؤذن کہتا ہے ‘‘، (رواہ البخاری ۶۱۴ و مسلم ۳۸۳ عن ابی سعید الخدریؓ) لہٰذا اذان کا جواب دینا اذانِ مشروع میں لازمی ہے ، لیکن اگر کسی نے اس نیت ریکارڈ شدہ اذان کا جواب دیا کہ اس میں ذکر اللہ ہے تو اس پر اس کا اجر تو دیا جائے گا لیکن اذان مشروع سے کم، اور رہی بات تنبیہ کے لئے مؤذنین کے ریکارڈ شدہ آوازوں کو استعمال کرنے کی ، اور ان آوازوں کے ذریعے اذانِ مشروع پر اکتفا ء کے علاوہ تو جیسا کہ بعض اداروں اور اجلاسوں میں ریکارڈ چلانا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ یہ محض تنبیہ ہے ۔ واللہ أعلم بالصواب۔

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

27 /4/ 1428هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف