الاربعاء 4 رمضان 1442 هـ
آخر تحديث منذ 3 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 4 رمضان 1442 هـ آخر تحديث منذ 3 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

منگنی کے بعد منگیتراور اس کے شوہر کے درمیان جنسی تعلقات کی کیاحد ہے ؟

مشاركة هذه الفقرة

منگنی کے بعد منگیتراور اس کے شوہر کے درمیان جنسی تعلقات کی کیاحد ہے ؟

تاريخ النشر : 15 ذو الحجة 1437 هـ - الموافق 18 سبتمبر 2016 م | المشاهدات : 891

میں شادی کی طرف متوجہ ہوں اور نکاح بھی ہوگیا ہے تو اب میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ میرے اور میرے منگیتر کے درمیان جنسی تعلقات کی کیاحد ہے ؟ اور دوعورتوں کے آپس میں کیا ستر ہے ؟ اور چھلّہ کی مشروعیت اور اس کا حکم کیا ہے ؟ میرا ایک آخری سوال رہ گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ : میری ایک سہیلی ہے جس کی اپنے خالہ زادسے منگنی ہوگئی ہے اور اب وہ ایک ملک میں ہے اور اس کا منگیتر دوسرے ملک میں ، وہ دونوں ہر چیز پر متفق ہیں لیکن ابھی تک ان کا نکاح نہیں ہوا جبکہ ایجاب و قبول ہوگیا ہے اور وہ دونوں اس انتظار میں ہیں کہ اس کی حکومت اس بات کی اجازت دے اس لئے کہ اس کے پاس اس ملک کی نیشنلٹی ہے لہٰذا اس کا اپنے منگیتر کے ساتھ بات کرنے کے کیاحدود ہیں ؟ اور کیا اس کو شوہر کی طرح سمجھا جائے گا جبکہ دونوں کا نکاح ابھی نہیں ہوا؟

حدود العلاقة بين الخطيب وخطيبته بعد عقد القران؟

حامدا و مصلیا

امابعد۔

-۱

  اگر اس نے تمہارے ساتھ عقدِ نکاح کرلیا ہے تو وہ تمہارا شوہر ہے اور فی الحال تمہارا شوہر کو منگیتر نہیں کہا جائے گا، اور رہی بات آپ دونوں کے درمیان جنسی تعلق کی تو اس بات میں عرفِ جاری ہے کہ آدمی عورت کے پاس شبِ زفاف سے پہلے کلّی طور پر نہیں جاسکتا، اس لئے میری رائے ہے کہ آپ اس کو جماع کی قدرت نہ دیں اوررہی بات شبِ زفاف سے پہلے بوس کنار کی تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

-۲

  عورت پر واجب ہے کہ اس سے وہ ظاہر نہ ہو جو باوقار و باحیاء اور پاکدامن عورتیں اجنبی عورتوں کے سامنے ظاہر نہیں کرتیں

-۳

  چھلّے کے ساتھ اگر یہ اعتقاد شامل نہ ہو کہ اس کا اتارنا فسادِ زندگی یا طلاق کا سبب بنے گا تو پھر یہ خاوند کی طرف سے بیوی کے لئے ایک تحفہ ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔

-۴

  پہلے سوال کے جواب میں اس کا جواب گزر چکا ہے ۔

-۵

  آپ کی سہیلی کے لئے اس کا منگیتر اجنبی ہے لہٰذا اس کے لئے اپنے منگیتر کے ساتھ خلوت نشین ہونا ، فون پر بات کرنا اورخط وکتابت کرنا جائز نہیں ہے ۔

آپکا بھائی

خالد المصلح

08/11/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف