الثلاثاء 15 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 8 ساعة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الثلاثاء 15 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 8 ساعة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

جمعہ کا خطبہ اور اس سے پہلے درس دینا

مشاركة هذه الفقرة

جمعہ کا خطبہ اور اس سے پہلے درس دینا

تاريخ النشر : 20 ذو الحجة 1437 هـ - الموافق 23 سبتمبر 2016 م | المشاهدات : 5013

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

اما بعد۔

جنابِ من! جس مسجد میں ہم نماز پڑھتے ہیں اس میں ایک نئی چیز رُونما ہوئی ہے ، اور یہ کہ اذانِ جمعہ سے قبل امامِ مسجد پہلے ایک لمبا درس دیتا ہے اور اذان کے بعد پھر اس نے پہلا خطبہ شروع کیا، اور اس خطبہ میں اس نے چار پانچ منٹ پر اکتفاء کیا، پھر دوسرا خطبہ تین چار منٹ میں دیا، اور اس میں اس نے اس بات کا سہارا لیا ہے کہ خطبہ نماز سے لمبا نہیں ہونا چاہئے ، لہٰذا آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟ اور اگر ایسا کرنا جائز نہیں ہے تو پھرہم کیا کریں ؟ کیا ہم اس صورت میں اس پر اعتراض کریں یا اس مسجد کو چھوڑ کر اپنی قریب والی مسجد میں جا یا کریں؟

خطبة الجمعة والدرس قبلها

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حامدا و مصلیا

امابعد۔

یہ بات درست نہیں ہے ، لگتا ہے امام صاحب کو آپ کے اس قول سے وہم ہوگیا ہے جس کوامام مسلمؒ نے (۸۶۹) میں حضرت عمارؓ سے نقل کیا ہے کہ :’’آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور اس کے خطبے کا چھوٹا ہوناا س کے فقیہ ہونے کی علامت ہے ، لہٰذا نماز کو لمبا کرکے پڑھا کرو اور خطبہ چھوٹا کیا کرو‘‘۔اور اس حدیث میں اس نسبت پر کوئی دلیل نہیں ہے ، بلکہ اس حدیث میں تو صرف خطبہ کے مختصرکرنے اور نماز کے لمبا کرنے کی ترغیب ہے ، اور قصرِ مشروع وہ قصر ہے جو مقصود (یعنی خطبہ اور وعظ و نصیحت ) میں خلل پذیر نہیں ہوتا۔

اور رہی بات خطبہ سے پہلے درس دینے کی تو مجھے تو اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ کہیں تیسرا خطبہ نہ ہو، اس لئے کہ یہ نہ تو سرکارِ دوعالمسے ثابت ہے اور نہ ہی ا ن کے جاں سپار صحابہ ؓ سے ۔کیونکہ اس میں نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا بھی ایک اندیشہ ہے اور اس سے روکا گیاہے اور یہ نہی اس حدیث میں وارد ہوئی ہے جس کو امام ابوداؤد ؒ نے (۱۰۷۹) میں اور امام نسائیؒ نے (۷۰۴)میں حضرت عمروبن شعیب اور انہوں نے اپنے والدِ ماجد سے نقل کی ہے کہ : ’’آپنے جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنانے سے منع فرمایا ہے ‘‘۔اور اہلِ علم نے اس نہی کی علت یہ ذکر کی ہے کہ اس طرح علم و مذاکرہ کے لئے جمع ہونے سے نماز اور اس کی تیاری سے غفلت پیدا ہوتی ہے ، باقی میں آ پ کو امامِ مسجد کی وعظ و نصیحت پر حرص کی وصیت کرتا ہوں ، کہ وجہِ صواب کا بیان اسی میں ہے ۔ واللہ أعلم بالصواب۔

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

20/ 9 /1427 هـ

المادة السابقة

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف