الخميس 28 ربيع آخر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 13 ساعة 14 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الخميس 28 ربيع آخر 1443 هـ آخر تحديث منذ 13 ساعة 14 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

امام کی نماز نقل کرنے کے لئے عورتوں کی نمازگاہ میں سکرین رکھنے کا حکم

مشاركة هذه الفقرة

امام کی نماز نقل کرنے کے لئے عورتوں کی نمازگاہ میں سکرین رکھنے کا حکم

تاريخ النشر : 20 ذو الحجة 1437 هـ - الموافق 23 سبتمبر 2016 م | المشاهدات : 650

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

اما بعد۔

جنابِ من! امام کی نماز پیش کرنے کے لئے عورتوں کی نماز گاہ میں ان کے سامنے معلّقہ سکرین کا کیا حکم ہے ، جن میں عورتیں امامِ مسجد اورباقی نمازیوں کو ایسی دیکھتی ہیں کہ گویا وہ بھی ان سب کے ساتھ ہیں ، اوراس بارے میں آپ کااپنا کیا نظریہ ہے؟

حكم وضع شاشات في مصلى النساء لنقل صلاة الإمام

 

حامدا و مصلیا

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

امابعد۔

اس میں ان عورتوں کے لئے نماز سے غفلت ہے ، خاص طور پر جب وہ سکرین ایسی بلند جگہ پر ہوں کہ نظریں ان کی طرف اٹھتی ہوں ، اور اس کے بارے میں نہی وارد ہوئی ہے ، جیسا کہ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایاکہ:  ’’لوگوں کو نماز میں دعا کے وقت آسمان کی نظر اٹھانے سے رکنا چاہئے ورنہ ا ن کی آنکھیں اچک لی جائیں گی‘‘ (أخرجہ مسلم: ۴۲۹) لیکن متبابعت میں آواز سننے پر اکتفاء کر سکتی ہیں ، کہ اس طرح کی چیزوں کو ضرورت کے تحت رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ واللہ أعلم بالصواب۔

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

15 /10 /1427هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف