الاربعاء 15 جمادى آخر 1442 هـ
آخر تحديث منذ 57 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 15 جمادى آخر 1442 هـ آخر تحديث منذ 57 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

جس عورت کو خون آئے اور وہ اسے حیض کا خون سمجھتے ہوئے نماز چھوڑدے

مشاركة هذه الفقرة

جس عورت کو خون آئے اور وہ اسے حیض کا خون سمجھتے ہوئے نماز چھوڑدے

تاريخ النشر : 25 ذو الحجة 1437 هـ - الموافق 28 سبتمبر 2016 م | المشاهدات : 716

اس عورت کے بارے میں کیا حکم ہے جس کو خون آئے اور وہ اسے حیض کا خون سمجھتے ہوئے نماز چھوڑدے ؟

نزل منها دم فظنته حيضاً وتركت الصلاة

حامدا و مصلیا

امابعد۔

جتنی نمازیں وہ چھوڑ چکی ہے ان کی قضا ء کرنا اس کے ذمے لازم نہیں ہے کیو نکہ اس نے اصل مسئلہ سمجھتے ہوئے ان نمازوں کو چھوڑا تھا اور یہ بہت اہم فائدہ ہے عورتوں کے لئے کہ اصل مسئلہ جس میں عموماََ عورتوں کو خون آتا ہے وہ حیض ہی ہوتا ہے ۔ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں :(ترجمہ)  ’’ یہ لوگ تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئے کہ وہ اذیت ہے ‘‘ اور اذیت وہی خون ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آیت میں ارشاد فرمایا۔ پس اصل میں جو خون عورت کو آتا ہے وہ حیض ہی ہے ۔ تو علماء کے قول کے مطابق اس پر قضا ء لازم نہیں آتی ۔

میں اس مسئلہ میں وہ روایت ذکر کرنا چاہوں گا جو صحیح کی روایت ہے کہ فاطمہ بنت جیشؓ نے رسو ل اللہ سے سوال کیا :’’میں ایک ایسی عورت ہوں کہ جب مجھے حیض آتا ہے تو پھر میں پاک نہیں ہوتی کیا میں نماز چھوڑدوں؟ تو آپنے جواب میں ارشاد فرمایا:نہیں بلکہ وہ ایک رگ ہے ‘‘ تو اس مسئلہ میں بعض روایات کے مطابق وہ نماز چھوڑدیتی تھی، جبکہ بعض روایات میں ہے کہ اس نے ایک لمبے عرصے تک نماز چھوڑے رکھی ، اور بعض روایات میں ہے کہ وہ سات سال سے مستحاضہ رہی۔ پس ان تمام صورتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی ان صورتوں میں نماز چھوڑ دے تو اس پر قضاء لازم نہیں کیونکہ وہ ان کو اپنے اوپر واجب ہی نہیں سمجھتی اور دوسری بات اس نے ان کو اصل پر قیاس کرتے ہوئے کہ یہی خون ہے اور اس سے نماز پڑھنا منع ہے ۔ اور اگر وہ چاہے کہ احتیاط کرے اور قضاء کرے تو یہ اس کا اپنا مسئلہ ہے ۔ـ

مگر شریعت کے حکم کے مطابق جو عورت خون کو حیض سمجھتے ہوئے نماز چھوڑدے کیا اس پر قضاء لازم آئے گی ؟ جواب یہ ہے کہ علماء کرام کے راجح قول کے مطابق اس پر قضاء واجب نہیں ۔ واللہ أعلم بالصواب۔

( بخاری ۲۲۸   و مسلم ۷۷۹)

مواد ذات صلة

مواد مقترحة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف