السبت 12 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 57 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 12 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 57 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

ایک ہی وضو میں وضواور تیمم دونوں کو جمع کرنا

مشاركة هذه الفقرة

ایک ہی وضو میں وضواور تیمم دونوں کو جمع کرنا

تاريخ النشر : 25 ذو الحجة 1437 هـ - الموافق 28 سبتمبر 2016 م | المشاهدات : 686

کیا ایک ہی وضو میں وضواور تیمم دونوں کو جمع کیا جا سکتا ہے ؟

الجمع بين الوضوء والتيمم في وضوء واحد


حامداََ ومصلیاََ۔

 اما بعد۔

بعض اہلِ علم کا یہ قول ہے کہ تیمم اور مسح کو جمع کیا جاسکتا ہے لیکن صحیح قول یہی ہے کہ ان دونوں کو جمع نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کے جمع پر کوئی دلیل وارد ہوئی ہے ، اور جو جمع کے قول کے قائل ہیں ان کی استدال شدہ حدیث ضعیف ہے ۔ صحیح قول یہی ہے کہ اگر کوئی حصہ ایسا ہے جس کو وضو کے دوران دھویا نہیں جاسکتا تو اگر اس عضو کا مسح کرنا ممکن ہے تو یہ مسح دھونے اور تیمم کرنے کے مقابلے میں کافی ہوجائے گا ، اور اگر نہ دھونا ممکن ہو اور نہ ہی مسح کرنا ممکن ہو تو اس صورت میں جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ اس کے بدلہ میں تیمم کرے گا ۔ اور اہلِ علم میں سے بعض کا یہی قول ہے کہ تیمم نہیں کرے گا بلکہ جس قدر ممکن ہو دھوئے گا اور باقی اس سے ساقط ہو جائے گا کیونکہ اس حال میں تیمم کرنے کا کوئی سبب موجود نہیں ہے۔ اور اہلِ علم کے ایک گروہ کا یہی قول ہے اور ظواہر اور بعض فقہاء کا یہی مذہب ہے اور ایہی قول ذرا زیرِ غور اور قابلِ شان بھی ہے ۔

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف