الاثنين 15 جمادى آخر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 2 ساعة 12 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاثنين 15 جمادى آخر 1443 هـ آخر تحديث منذ 2 ساعة 12 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

متعہ کا کیا حکم ہے

مشاركة هذه الفقرة

متعہ کا کیا حکم ہے

تاريخ النشر : 15 محرم 1438 هـ - الموافق 17 اكتوبر 2016 م | المشاهدات : 1185

متعہ کا کیا حکم ہے ؟

حكم نكاح المتعة

حامداََ ومصلیاََ۔۔۔

امابعد۔۔۔

نکاحِ متعہ ٹھیک نہیں ہے اور نہ ہی یہ جائز ہے ۔ اور متعہ اسے کہتے ہیں کہ مرد عورت کے ساتھ ایک مخصوص مدت  یعنی مہینہ وغیرہ کے لئے نکاح کرلے ، چاہے وہ مدت معلو م ہو یا مجہول اور یہی صحابہ کا مذہب تھا اور ان کے بعد کے علماء کا بھی یہی مذہب تھا ۔اس کے علاوہ اوروں کی بھی یہی رائے ہے حضرت علی ابن طالبؓ سے صحیح مسلم میں نکاحِ متعہ کے بارے میں ایک روایت ہے کہ آپص نے نکاحِ متعہ سے خیبر کے دن منع فرمایااور صحیح مسلم میں دوسری حدیث سبرہ بنت معبدؓ سے مروی ہے کہ آپنے ارشاد فرمایا کہ:’’ اے لوگو !  میں نے تم کو متعہ کے ذریعے عورتوں سے لطف اٹھانے کی اجازت دی تھی لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت کے دن تک حرام قرار دے دیا ہے‘‘۔

پس آثارِ صحابہ ؓ سے جو اس پر مترتب ہوتاہے وہ اس پر مترتب نہیں ہوتے کیونکہ وہ آثار باطل ہیں پس واجب یہ ہے کہ ہم اس کو منع کریں ۔ اگر کوئی تاویل کرنے والا یا جاہل اس میں پڑجائے تو ان کے درمیان جدائی کردی جائے ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

14/03/1425هـ

 

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف