الاحد 18 رجب 1442 هـ
آخر تحديث منذ 16 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاحد 18 رجب 1442 هـ آخر تحديث منذ 16 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

تصوف کے بارے میں أ.د خالد المصلح کی رائے

مشاركة هذه الفقرة

تصوف کے بارے میں أ.د خالد المصلح کی رائے

تاريخ النشر : 16 محرم 1438 هـ - الموافق 18 اكتوبر 2016 م | المشاهدات : 739

محترم جناب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ تصوف کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟

رأي أ.د خالد المصلح في التصوف

حامداََ ومصلیاََ۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امابعد۔۔۔

تصوف کے کئی درجات ہیں جن میں سے بعض سلوک و اخلاق پر مشقت و عبادت میں محنت اور جہد سے متعلق ہیں اور یہ سب اس طرز پر ہوں کہ نبوی طریقے سے باہرنہ نکلے پس یہ طریقہ سنت سے خارج نہیں ہے ، اور یہی وہی طریقہ ہے جس پر سابقہ عابدین جنید بغدادی اور فضیل بن عیاض جیسے اہل علم تھے جنہوں نے عبادت کی معرفت حاصل کی اور اس طریقہ کے علاوہ جو باقی طریقے اور راستے ہیں وہ سب بدعات پر مشتمل ہیں ان سب طریقوں کے درجات کتاب اور سنت سے قرب و دوری کے اعتبار سے مختلف ہیں ۔ اور جس چیزکی میں اپنے بھائیوں کو نصیحت کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے نبی کی سیرت ہے جیسا کہ آپاپنے خطبات میں بار بار فرمایا کرتے تھے۔ اسی طرح صحیح مسلم میں جابر بن عبداللہ ؓ روایت فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولخطبہ دیتے وقت یہ ارشاد فرماتے ’’امابعد: سب سے بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے بہترین راستہ محمدکی سیرت ہے اورتمام امور کی برائی ان میں حدث اور بدعت کا پیدا ہونا ہے ، اور ہر بدعت گمراہی ہے

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

20 /9 /1427هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف