الاحد 12 جمادى آخر 1442 هـ
آخر تحديث منذ 2 ساعة 17 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاحد 12 جمادى آخر 1442 هـ آخر تحديث منذ 2 ساعة 17 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

گردشِ ایام اگر ہمیں دھوکہ دے قول القائل:

مشاركة هذه الفقرة

گردشِ ایام اگر ہمیں دھوکہ دے قول القائل:

تاريخ النشر : 16 محرم 1438 هـ - الموافق 18 اكتوبر 2016 م | المشاهدات : 769

میں نے دیوانِ امام شافعیؒ میں یہ اشعار پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے کہ اور میں اپنے زمانے سے راضی نہیں جیسا کہ تم دیکھتے ہو لیکن زمانے نے جو فیصلہ کیاہے اس سے میں راضی ہوں ، اگر زمانہ نے ہمارے عہد میں خیانت کی ہے تو میں اس سے راضی ہوں لیکن یہ قہر ہے ۔ آپ کا اس کے بارے میں کیا سوال ہے؟ کیا زمانے کو چلانے والا اللہ نہیں ہے ؟

قول القائل:فإن كانت الأيـام خانت عهودنـا

حامداََ ومصلیاََ۔۔۔

امابعد۔۔۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپنے ارشاد فرمایاکہ:’’ زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ اللہ تعالیٰ خود زمانہ ہے ‘‘ ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ :’’ابن آدم مجھے اذیت دیتا ہے جب وہ زمانے کو برا بھلا کہتاہے اور زمانہ تو میرے ہاتھ میں ہے اور دن رات کو میں لاتا ہوں ‘‘۔لہٰذا کسی مؤمن کے لئے یہ جائزنہیں کہ وہ زمانے کو برا بھلا کہے کسی خاص و عام دونوں وجہ سے نہیں ، اور نہ اجزاء کو جیسا گھنٹہ ، دن یا مہینہ اور نہ کلی طور پر جیسازمانے میں عیب نکالنا۔ کیونکہ یہ سارا منہی عنہ ہے جیسا کہ نبی کے ارشادات سے واضح ہوتا ہے ۔ جہاں تک اشعار کی بات ہے تو پہلے اس کی صحت اما م شافعی ؒ سے ثابت نہیں ، اگر اس کی صحت کی دلیل بھی ملے تو جواب وہی ہے جو نبی پاککی حدیث ہے ۔ اور شاید امام شافعیؒ کو یہ نہی نہ پہنچی ہو یا من وجہ خبریا حکایت ذکر کیا ہو نہ کہ من وجہ ذم اور عیب کے ذکر کیا ہو، کیونکہ اگر زمانے کی برائی کی خبر دی جائے اور اس کو عیب دار نہ ٹھہرایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (ترجمہ)  ’’منحوس دنوں میں ‘‘۔یہاں پر ایام کو منحوس کہا گیا ہے اور یہ عیب ہے لیکن یہ برائی بیان کرنے کے لئے نہیں بلکہ صرف ایام کا ایک وصف ہے ۔ واللہ أعلم۔

مواد ذات صلة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف