الاثنين 2 رمضان 1442 هـ
آخر تحديث منذ 1 ساعة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاثنين 2 رمضان 1442 هـ آخر تحديث منذ 1 ساعة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

عورت کا ظہر کی نماز کو مؤخر کرنا

مشاركة هذه الفقرة

عورت کا ظہر کی نماز کو مؤخر کرنا

تاريخ النشر : 17 صفر 1438 هـ - الموافق 18 نوفمبر 2016 م | المشاهدات : 804

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ جناب عالی! ایک عورت روزانہ بغیر کسی عذرکے ظہر کی نمازڈھائی بجے تک مؤخر کرتی ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ تأخير المرأة لصلاة الظهر

حامداََو مصلیاََ ۔۔۔ 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 امابعد۔۔۔

 جب تک ظہر کا وقت نہ نکل جائے توتاخیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ظہر کا وقت زوال سے شروع ہوتا ہے اور یہ وہ وقت ہوتاہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوجاتاہے ۔ اور اس پر آپکی بہت ساری احادیث دلالت کرتی ہیں۔ اور ظہر کا وقت عصر کے داخل ہونے کے ساتھ نکل جاتا ہے اور ظہر فاصل ہے بلکہ ظہر کے وقت کے نکلنے کے ساتھ ہی عصر کا وقت داخل ہوجاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : (ترجمہ)  ’’آفتاب کے ڈھلنے کے وقت سے لیکر رات کے اندھیرے تک نماز قائم کرواورفجر کے وقت قرآن پڑھنے کا اہتمام کرو اور یاد رکھو کہ فجر کی تلاوت میں (فرشتوں کا) مجمع حاضر ہوتا ہے ‘‘۔ الاسراء: 78

لہٰذا ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کے درمیان کوئی فاصل نہیں ہے بلکہ ایک کے وقت کا خارج ہونے سے دوسرے کا وقت داخل ہوجاتا ہے سوائے فجر کے کیونکہ یہ الگ ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :(ترجمہ)   ’’اورفجر کے وقت قرآن پڑھنے کا اہتمام کرو اور یادرکھو کہ فجر کی تلاوت میں (فرشتوں کا) مجمع حاضر ہوتا ہے ‘‘۔کیونکہ اس والله أعلمکا وقت مستقل ابتدا ء اور انتہاء کا ہے۔

آپ کا بھائی

أ. د.خالد المصلح

5 / 3 / 1434هـ

 

مواد ذات صلة

مواد مقترحة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف