الثلاثاء 3 رمضان 1442 هـ
آخر تحديث منذ 11 ساعة 30 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الثلاثاء 3 رمضان 1442 هـ آخر تحديث منذ 11 ساعة 30 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

نمازکے دوران سجدوں میں حائل ہونا

مشاركة هذه الفقرة

نمازکے دوران سجدوں میں حائل ہونا

تاريخ النشر : 19 صفر 1438 هـ - الموافق 20 نوفمبر 2016 م | المشاهدات : 961

جناب عالی! کیا احادیث میں کوئی ایسی حدیث وارد ہوئی ہے جو زمین پر بغیر حائل کے سجدہ کرنے پر دلالت کرتی ہو اور سنیت ثابت کرتی ہو؟ یعنی کہ میں زمین پر بغیر حائل کے سجدہ کروں ؟

السجود على حائل في الصلاة

حامداََو مصلیاََ ۔۔۔ 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 امابعد۔۔۔

اہلِ علم کے ایک جماعت کی رائے ہے جن میں امام شافعی ؒ بھی شامل ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ نماز کے ساتھ جو حائل متصل ہو اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز نہیں ہے جیسے کہ عمامہ اور کپڑے وغیرہ اور استدلال کرتے ہیں امام مسلمؒ کی ایک حدیث سے جس کو انہوں نے نقل کی ہے جو خباب بن الارت سے مروی ہے فرمایا کہ ہم آپکے پاس آئے تاکہ گرمی کی شدت کی شکایت کرے لیکن ہم نے شکایت نہیں کی۔وہ سب کہتے ہیں کہ نمازی کے لئے اعضائے سجود کا سجدہ کی جگہ پر بغیر حائل کے رکھناواجب ہے۔ تابعین اور اصحاب مذاہب کے جمہور علماء اور ان کے علاوہ نے اس میں اختلاف کیا ہے ۔

وہ سب کہتے ہیں کہ نمازی کے لئے اعضائے سجود کا بلا حائل سجدہ پر رکھناواجب نہیں ہے ۔اور وہ جواز کا استدلال اس حدیث سے کرتے ہیں جو بخاری شریف میں(۳۸۵) اور مسلم شریف میں (۶۲۰) میں مذکور ہے ۔ اور یہ حدیث بکر بن عبداللہ کے طریق سے حضرت انس ؓسے منقول ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم آپکے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ہم میں سے کسی نے گرمی کی شدت کی وجہ سے سجدہ کی جگہ پر چادر بچھادی۔ اور أقرب الی الصواب تویہ ہے کہ اگر کوئی ضرورت نہ ہو تو بلاحائل کے نماز پڑھنا أولیٰ ہے ۔واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

أ د.خالد المصلح

13 / 6 / 1427 هـ

مواد ذات صلة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف