السبت 19 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 3 ساعة 17 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 19 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 3 ساعة 17 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

ولادت کو کنٹرول کرنے والے آلہ کو رکھنے سے جو خون آتاہے اس کا کیا حکم ہے ؟

مشاركة هذه الفقرة

ولادت کو کنٹرول کرنے والے آلہ کو رکھنے سے جو خون آتاہے اس کا کیا حکم ہے ؟

تاريخ النشر : 20 صفر 1438 هـ - الموافق 21 نوفمبر 2016 م | المشاهدات : 620

ولادت کو کنٹرول کرنے والے آلہ کو رکھنے سے جو خون آتاہے اس کا کیا حکم ہے ؟

ماحکم الدم الذی یصاحب ترکیب اللولب

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ولادت کو کنٹرول کرنے والے آلہ کا استعمال غالب طور پر حیض کے زمانہ میں ہوتا ہے یا مہینے کے آخرمیں عورت کو جو دورہ آتاہے اس وقت ہوتاہے ۔ اگر ان اوقات میں عورت ولادت کنٹرول کرنے والے آلہ کو استعمال کرتی ہے تو یہ حیض کے حکم میں آئے گا ، جو پندرہ دن سے زیادہ نہیں ہوگا، کیونکہ اس خون کا دارومدار اصل پر ہے اور وہ حیض ہے ۔ اور اصل باقی ہوتا ہے جس پر وہ ہوتا ہے یہاں تک کہ مدت تک پہنچ جائے اور وہ مدت پندرہ دن ہے ۔ اگر اس پہلے خون رک جائے تو غسل کرے اور نماز پڑھے اگر اس نے ولادت کو کنٹرول کرنے والے آلہ کو پاکی کی حالت میں رکھا اور پھر خون نکلا تو یہ خون حیض کا نہیں ہوگابلکہ یہ دم فساد ہوگا۔کیونکہ اس کی وجہ معلوم ہے اور وہ اس آلہ کو رکھنے کی وجہ سے نکلا ہے ۔اور خون نماز سے مانع نہیں ہوگاکیونکہ یہ دم فساد ہے ۔مگر یہ کہ وہ خون حیض کا ہواس کا مطلب یہ ہے کہ ولادت کو کنٹرول کرنے والے آلہ کو رکھنا معیاد کو لاتا ہے ۔اس وجہ سے اس کے ساتھ معیاد آتاہے ۔

اگر وہ خون تھوڑا تھوڑا کرکے آات یعنی وہ خون مستقل بہنے والا نہ ہو یعنی تھوڑا سا ہو تو اس خون کا حکم دم فساد کا ہے ۔جس میں مستحب یہ ہے کہ ہر نماز کے لئے وضو کرے اگر وہ وضو نہ بھی کرے تو نماز اس کی ٹھیک ہوجائے گی ، یعنی اگر اس نے ایک ہی وضو پر اکتفاء کیااور وضو نہ توڑے اس کے علاوہ کسی اور چیزسے تو اس کی نماز ٹھیک ہے

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف