السبت 12 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 2 ساعة 40 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 12 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 2 ساعة 40 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

واٹر پروف کریم کا لگانا

مشاركة هذه الفقرة

واٹر پروف کریم کا لگانا

تاريخ النشر : 21 صفر 1438 هـ - الموافق 22 نوفمبر 2016 م | المشاهدات : 837

ایک قسم کی کریم ہے جو بالوں پر لگایا جاتاہے اور کبھی کبھی جلد پر بھی اور کبھی کبھی اس قسم کا کریم پانی کو جلد سے روکتاہے تو اس قسم کے کریم کا کیا حکم ہے ؟اور اس کے ساتھ نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟اور سابقہ نمازوں کا کیا ہوگا؟ اور اگر عورت نے یہ کریم لگا کر نماز پڑھی ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟

وضع کریم عازل للماء

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ اس قسم کے کریم جو ہاتھوں پر لگائے جاتے ہوں ، میری سمجھ میں نہیں آرہاکہ کس طرح پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکتا ہوگا؟اگر عام طورپراستعمال کرنے والی کریم ہو تو وتو جلد میں جذ ب ہوجاتی ہے اور پھر کوئی چیز پانی کو جلدسے روکنے والا باقی نہیں رہتا۔ اور کوئی شخص اپنے بالوں کو اس کریم کے ذریعہ اکٹھا کرتاہے سٹائل وغیرہ کے لئے ، تاکہ کوئی چیز نہ پڑے ایک مخصوص شکل میں ، اور یہ پانی کو پہنچنے سے منع بھی کرتا ہو تو جو میرے سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

اور اس حالت میں کہ وہ پانی کو منع کررہا ہے لیکن یہاں منع کرنا اس وجہ سے جائز ہے کہ ہمیں پتہ ہے کہ سر پر لگی ہوئی چیز پرمسح کرنا پانی ڈالنا جائز ہے ۔ اور ام سلمہ ؓ نے آپسے پوچھاکہ کیا عورت اپنی چوٹیاں کھولے گی غسل جنابت کے لئے؟ آپنے فرمایا:کہ نہیں ، تو اس سے ثابت ہوتاہے کہ غسل جنابت کے لئے چوٹیاں کھولناواجب نہیں ہے ۔ اس احتمال کے ساتھ کہ چوٹیوں کے اند رپانی نہیں پہنچے گا ، اس سے ثابت ہو ا کہ تبلیغ پانی واجب نہیں بلکہ پانی کا بہانہ واجب ہے سر کے اوپر، اور مبالغہ مسنو ن ہے۔

میرے خیال میں ایسی کریم صرف سٹائل وغیرہ کے لئے لگائی جاتی ہے اور ایک مقررہ مدت تک ہوتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ لیکن اولیٰ اور احوط یہ ہے کہ اس سے اجتناب کرے ، باقی حرام و حلال کی بات ہے تو اس میں آپنے حج میں بالوں کی تلبید کی ہے ۔ اور تلبید کہتے ہیں کہ بالوں کو شہد یا گوند کے ذریعہ ایک جگہ اکٹھا کیا جائے تاکہ بال نہ بکھرے ، اور یہی علماء کا قول ہے اوریہ بھی معوم ہے کہ آپکو غسل کی حاجت ہوتی تھی ،  اور تلبید نے منع نہیں کیا مدت حج میں پانی ڈالنے سے آپ کو۔

پس اگر آپ نے کریم کی تہہ لگائی تو اس کو زائل کرنا ہے اور اس جگہ کو دھونا ہے اور سابقہ نمازوں کو جو کریم لگاکر پڑھی ہے اگر وہ لاعلمی میں ہوئی ہے تو کوئی بات نہیں۔

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف