×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / کیا غسل وضو کی جگہ کافی ہوجاتاہے؟

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

غسل واجب یامستحب یا مباح ہو وضو کی جگہ نماز کے لئے کافی ہوجائے گا، اگر جائز ہے تو اس کی کیا شرط ہے ، دلیل کے ساتھ بیان کریں؟د الاغتسال هل يجزئ عن الوضوء ؟

المشاهدات:2548

غسل واجب یامستحب یا مباح ہو وضو کی جگہ نماز کے لئے کافی ہوجائے گا، اگر جائز ہے تو اس کی کیا شرط ہے ، دلیل کے ساتھ بیان کریں؟د

الاغتسال هل يجزئ عن الوضوء ؟

الجواب

امابعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

 جی ہاں ! غسل واجب یا مستحب نماز کے لئے وضو کی جگہ کافی ہوجاتاہے اگر غسل کرنے والا کلی کرے اور ناک میں پانی ڈالے طہارت کی آیت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق (سورۂ مائدہ :۶)  ترجمہ:  ’’اگرتم جنبی ہو تو طہارت حاصل کرو‘‘۔یہاں وضو کو ذکر نہیں کیا، ہاں اگر مباح غسل ہو تو پھر وضو بہت لازمی ہے کیونکہ وضو میں ترتیب شرط ہے اعضاء کو دھوتے ہوئے اور یہ ترتیب سارے جسم پر پانی ڈالنے سے حاصل نہیں ہوتی ، اگر پاکیزگی یا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے غسل کرے تو نماز کے لئے وضو کرے۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات133828 )
5. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67338 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات66664 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات58016 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات56893 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56740 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات54535 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات47774 )

مواد تم زيارتها

التعليقات


×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف