×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / قرآنی سورتوں کو لٹکانے کا کیا حکم ہے ؟

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

گھر میں برکت کے لئے قرآن کی سورتوں کو لٹکانے کا کیا حکم ہے؟ حكم تعليق سور القرآن

المشاهدات:3455

گھر میں برکت کے لئے قرآن کی سورتوں کو لٹکانے کا کیا حکم ہے؟

حكم تعليق سور القرآن

الجواب

حامداََ ومصلیاََ

امابعد

جواب ملاحظہ ہو

قرآنی آیات یا سورتوں کو برکت کی غرض سے لٹکانا جائز نہیں بلکہ یہ بدعت ہے اور ان تعویذوں کو جن حفاظت کی غرض سے لٹکانے سے بھی منع کیا گیا ہے اس میں یہ بھی داخل ہوگا کیونکہ ایسے تعویذوں سے منع کیا گیا ہے اور یہ سورتوں کو لٹکانا بھی اسی معنی میں ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ تعویذ بچوں کے گلے میں یاجارنوں پر لٹکائے جاتے ہیں محض مصیبت سے بچنے کے لئے اور یہ شرک کے ان وسائل اور اسباب میں سے ہے جو آخرکار شرک ہی کی طرف لے جاتے ہیں ۔ٍاحمد ، ابوداؤد وغیرھا نے ابن مسعود کی حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:’’دم ، تعویذ  اور تولۃ شرک ہے ‘‘ اور اگر ان آیا ت سور کا لٹکانا نصیحت حاصل کرنے اور عبرت کے لئے ہو تو یہ بھی ایسے عمل میں شامل ہے جس کی نظیر خیر القرون میں نہیں ملتی، اور خیر سلف کی اتباع میں ہی ہے اور ہر شر آنے والوں کی بدعات میں ہے۔

والله أعلم.

آپ کا بھائی

خالد المصلح

13/11/1424هـ


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات133584 )
5. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67226 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات66537 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات57950 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات56746 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56702 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات54381 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات47669 )

مواد تم زيارتها

التعليقات


×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف