الخميس 28 ربيع آخر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 13 ساعة 2 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الخميس 28 ربيع آخر 1443 هـ آخر تحديث منذ 13 ساعة 2 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

سورۂ کہف کی تلاوت کا وقت

مشاركة هذه الفقرة

سورۂ کہف کی تلاوت کا وقت

تاريخ النشر : 24 صفر 1438 هـ - الموافق 25 نوفمبر 2016 م | المشاهدات : 1603

کیا جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کسی بھی وقت کی جاسکتی ہے یا اس کے لئے کوئی مخصوص وقت مقر رہے؟

وقت قراءة سورة الكهف

جواب ملاحظہ ہو

جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کے مستحب ہونے میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں جو کہ ابن عمر ، ابوسعید خدری ، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں اور بہترین روایت بیہقی اور حاکم نے ابو سعید خدریؓ سے مرفوعاََ ذکر کی ہے  :’’جس نے جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کی اس کے لئے اس جمعے سے اگلے جمعے تک نور ہی نور ہوگا‘‘۔ اور موقوف بھی روایت کی گئی ہے اور امام نسائی نے اسی موقوف روایت کی بھی تصحیح فرمائی ہے جیسا کہ حافظ بن حجر ؒنے تلخیص الحبیر میں (۷۲۱۲) میں ذکر کیا ، اور دارقطنی نے عللہ (۳۰۷/۱۱) میں کہا: اس حدیث کا موقو ف ہونا بالکل صواب ہے اور ابن قیم ؒ نے بھی زاد المعاد (۳۷۹/۱) میں اسی کو راجح کہا ہے اور ابن الملقن نے مرفوع روایت کی تصحیح کی ہے جیسا کہ البدر لمنیر(۲۹۲/۲) میں ہے ۔

لہٰذا صحیح قول یہ ہے کہ اس بارے میں نبی سے مرفوعاََ کچھ ثابت نہیں ۔ اور ا س کو حنفیہ ، شافعیہ اور حنابلہ احادیث کو دیکھتے ہوئے استحباب ہی پرعمل کرتے ہیں اور یہی ان کا مذہب ہے اوربعض اہل علم ابوسعید خدریؓ والی حدیث کی بنیاد پر اسے مستحب کہتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ ایسا معاملہ ہے جس میں رائے کی گنجائش نہیں لہٰذ ا موقوف بھی مرفوع کے حکم میں ہی ہوگی اور یہی قول بہتر معلوم ہوتاہے ۔ واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

08/04/1425هـ

 

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف