السبت 29 شعبان 1442 هـ
آخر تحديث منذ 5 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 29 شعبان 1442 هـ آخر تحديث منذ 5 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

ایسی جگہ نماز پڑھنا جہاں شراب نوشی ہو

مشاركة هذه الفقرة

ایسی جگہ نماز پڑھنا جہاں شراب نوشی ہو

تاريخ النشر : 7 ربيع آخر 1438 هـ - الموافق 06 يناير 2017 م | المشاهدات : 682

کیا ایسے ہوٹلوں اور ہالوں کو اجرت پہ دیا جاسکتا ہے جن میں شراب اوردوسری حرام کردہ چیزوں کی بیع و شراء ہوتی ہے اورکیا ان کے اندر ذکر ونماز جائز ہے جبکہ شراب ان کے اندر پڑی ہو؟

حكم الصلاة في مكان يشرب فيه الخمر

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا جواب یہ دیتے ہیں:

آپسے کچھ ایسی احادیث منقول ہیں جو ایک مسلمان کو ا یسی کھانے پینے کی جگہوں میں بیٹھنے سے روکتی ہیں جہاں شراب نوشی کی جاتی ہو یا شراب کا دور چلتا ہو، اور ان سب میں أصح حدیث جس کی امام نسائی نے اپنی کتاب (کبریٰ:۶۷۴۱) میں تخریج کی ہے وہ حضرت جابرؓ کی حدیث ہے وہ روایت کرتے ہیں کہ آپنے ارشاد فرمایا:’’جو اللہ پر اور روزِآخرت پر ایمان رکھتاہوتو وہ کھانے کے ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کا دور چل رہا ہو‘‘۔ اس حدیث کی سند جےّد ہے جیسا کہ حافظ ابن حجرؒ نے (فتح الباری:۹/۲۵۰) میں کہا ہے اور اسی حدیث کو امام ترمذی نے لیث بن سلیم عن طاؤوس کے طریق سے حضرت جابر ؓ سے نقل کی ہے جس میں (مائدۃ) کی جگہ (مکان) کا لفظ آیا ہے ۔ لہٰذا یسے ہال جن میں شراب رکھی جاتی ہو ان کو اجرت پہ دینا جائز نہیں ہے اس لئے کہ یہ معصیت کی جگہیں ہیں ایسی جگہوں کو چھوڑکر باہر نکلنا واجب ہے ، امام نسائی نے (۵۲۵۶) میں حضرت علیؓ سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپکیلئے کھانا تیار کیا اورپھر آپکو مدعو کیا لیکن جونہی آپ علیہ السلام گھر میں داخل ہوئے تو گھر میں ایک لٹکتے ہوئے پردے پر کچھ تصویریں دیکھیں آپفوراََنکلے اور فرمایا (رحمت کے فرشتے) ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں‘‘۔دار قطنی نے اپنی علل میں اس کے ارسال کی تصویب فرمائی ہے ، اور صحابہ کرامؓ اور ان کے بعد کے امت کے سلف صالحین بھی ایسی تقریبوں میں شرکت نہیں فرماتے تھے جن میں شرعی مخالفت اور معصیت ہو ، ابن مسعود ؓ سے ثابت ہے کہ وہ ایک ایسے گھرمیں تشریف لے گئے جس میں تصویر تھی تو وہاں سے واپس لوٹ آئے ،

اسی طرح ایک مرتبہ ابن عمر ؓ نے ابو ایوب انصاریؓ کی دعوت کی(ابو ایوب انصاریؓ)نے ان کے گھرمیں دیوار پر پردہ لٹکا ہوادیکھا۔ابن عمرؓ(نے معذرت کرتے ہوئے)کہا کہ عورتوں نے ہم کو مجبور کردیا ہے۔اس پر ابو ایوبؓ نے کہا کہ اور لوگوں کے متعلق تو مجھے اس کا خطرہ تھا لیکن آپ کے متعلق یہ خیال نہیں تھا۔واللہ میں یہاں کھانا نہیں کھاؤں گا چناچہ وہ واپس آگئے۔بخاری نے دونوں روایتوں کو تعلیقاْ ذکر کیا ہیں۔

جہاں تک نماز کی بات ہے تو ایسی جگہ نماز پڑھنا جائز ہے جیسا کہ جابرؓکی روایت میں ہے:اور زمین کو میرے لئے پاک اور سجدہ گاہ بنائی گئی ہے۔(بخاری:۳۲۳، مسلم:۸۱۰) لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی جگہ جہاں گناہ ہو اس کو چھوڑناواجب ہے اورنماز کے لئے اگر کوئی اور جگہ میسر ہو تو گناہ کی جگہ پر نماز بھی جائز نہیں۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

خالد المصلح

08/04/1425هـ

مواد ذات صلة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف