×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / نماز میں دعائے قنوت پڑھنے کی جگہ

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

میں نے ایک جگہ امام کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی انہوں نے دوسری رکعت میں دعائے قنوت پڑھی اس کا کیا حکم ہے؟ موضع القنوت في الصلاة

میں نے ایک جگہ امام کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی انہوں نے دوسری رکعت میں دعائے قنوت پڑھی اس کا کیا حکم ہے؟

موضع القنوت في الصلاة

الجواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا جواب یہ دیتے ہیں:

حدیث سے جو محل قنوت کے لئے ثابت ہے وہ آخری رکعت میں رکوع سے اٹھنے کے بعد ہے۔تو اگر امام نے اس کی مخالفت کی اور دسرے رکعت میں قنوت پڑھ لیا تو ان کو تسبیح کے ذریعے متنبہ کیا جائے یعنی غلطی کی خبر دی جائے۔جیسا کہ نماز کے بعد بتایا جاتا ہے اگر ان کو قنوت کے محل کا پتہ نہ ہو۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

29/03/1424هـ

 


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات133827 )
5. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67338 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات66664 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات58016 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات56892 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56740 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات54514 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات47771 )

مواد تم زيارتها

التعليقات


×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف