الخميس 28 ربيع آخر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 13 ساعة 7 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الخميس 28 ربيع آخر 1443 هـ آخر تحديث منذ 13 ساعة 7 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

ایسی مسجد میں نماز پڑھنا جہا ں قبریں ہو

مشاركة هذه الفقرة

ایسی مسجد میں نماز پڑھنا جہا ں قبریں ہو

تاريخ النشر : 7 ربيع آخر 1438 هـ - الموافق 06 يناير 2017 م | المشاهدات : 805

ایسی مسجد میں نماز پڑھنا جہا ں قبریں ہواس کا کیا حکم ہے؟

حكم الصلاة في المساجد التي بها قبور

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا جواب یہ دیتے ہیں:

بہت سارے علماء سے اس بارے میں اجماع منقول ہے کہ قبروں پر مساجد نہ بنائی جائے، اور اس بارے میں نہی کثرت سے نصوص میں وارد ہے۔ جندب بن عبداللہؓ آپ کا ارشاد نقل کرتے ہیں:آپ سے پہلے اقوام نے اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کے قبروں پر مساجد تعمیر کئے پس تم لوگ مزاروں کو مساجد نہ بناؤ ، میں اس چیز سے آپ کو منع کرتا ہوں۔(مسلم:۵۳۲)اور نبی نے ایسا کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہیں جو مزار کو سجدہ گاہ بنائے۔جیسا کہ صحیحین میں ابن عباسؓ کی روایت ہے، آپنے فرمایا:یہودونصاریٰ پر اللہ کی پھٹکار ہوکہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنالیا،آپ یہ فرما کر امت کو ایسے کاموں سے ڈراتے تھے۔(بخاری: ۴۳۶ ، مسلم :۵۳۱)اور اسی طرح صحیحین (بخاری:۱۳۳۰ ، مسلم : ۵۲۹)میں حضرت عائشہؓ کی روایت میں بھی لعن آیا ہے۔

اگر قبر کے اوپر کوئی مسجد بنائی جائے تو اس مسجد کو منہدم کرنا واجب ہے اور اگر مسجد پہلے سے موجود ہو اور بعد میں اس کے اندر قبر بنائی گئی تو اس قبر کو وہاں سے ختم کرکے میت کو مسلمانوں کے قبرستان میں منتقل کیا جائے۔

اور ایسی مسجد میں نماز پڑھنا جو قبرکے اوپر تعمیر کی گئی ہو اس میں نماز پڑھنا سے نہی تحریم کے حکم میں ہے جبکہ بعض علما ء کے نزدیک نہی کراہت کے ہے اور راجح قول نہی تحریمی ہے یہ تب ہے جب قبر پہلے سے موجود ہو اور اس کے اوپر مسجد بنائی جائے۔ اور اگر مسجد پہلے سے ہو اور بعد میں اس کے اندر کوئی قبر داخل کی جائے تو نماز پڑھنا جائز ہے لیکن اس قبر کو ختم کرنا واجب ہوگا اور اگر غالب گمان یہ ہو کہ صاحب قبر کو زمیں نے کھا لیا ہوگا اور وقت بھی زیادہ گزر گیا ہے تو پھر قبر کو زمین کے ساتھ برابر کرنا بھی کافی ہوگا۔واللہ اعلم

آپ کا بھائی

خالد المصلح

10/03/1425هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف