الثلاثاء 17 ربيع آخر 1442 هـ
آخر تحديث منذ 5 ساعة 28 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الثلاثاء 17 ربيع آخر 1442 هـ آخر تحديث منذ 5 ساعة 28 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ باجماعت نماز

مشاركة هذه الفقرة

عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ باجماعت نماز

تاريخ النشر : 9 ربيع آخر 1438 هـ - الموافق 08 يناير 2017 م | المشاهدات : 769

کیا عورت اپنے خاوند کے پہلو میں فرض یا نفل نماز پڑھ سکتی ہے ؟

صلاة المرأة جماعة مع زوجها

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا جواب یہ دیتے ہیں:

مسنون تو یہی ہے کہ عورت علیحدہ صف میں نماز پڑھے اگرچہ وہ اپنے کسی ذی محرم یااپنے خاوند کے ساتھ نماز پڑھے اس لئے کہ بخاری (۳۸۰) میں اور مسلم (۶۵۸) میں حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ آپنے مجھے ، ایک یتیم اور میری دادی ملیکہ کو اس طرح نماز پڑھائی کہ مجھے اور یتیم کو اپنے پیچھے صف میں کھڑا کیا اوروہ بوڑھی عورت ہمارے پیچھے تھی آپنے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھراس کے بعد سلام پھیرلیا۔لیکن اگر عورت اپنے خاوند یا اپنے کسی ذی محرم کے پہلو میں فرض یا نفل نماز پڑھے تو جمہور کے ہاں اس کی نماز درست ہے مگر اس طرح اس سے سنت چھوٹ جائے گی ۔ واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

13/01/1425هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف