الاحد 18 رجب 1442 هـ
آخر تحديث منذ 5 ساعة 17 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاحد 18 رجب 1442 هـ آخر تحديث منذ 5 ساعة 17 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

میرا خاوند باجماعت نماز کا پابند نہیں ہے

مشاركة هذه الفقرة

میرا خاوند باجماعت نماز کا پابند نہیں ہے

تاريخ النشر : 10 ربيع آخر 1438 هـ - الموافق 09 يناير 2017 م | المشاهدات : 549

میں نے ایک اجارہ دار آدمی سے شادی کرلی ہے اور میری شادی کو ایک ماہ سے کم عرصہ ہوا ہے لیکن اب ایک مسئلہ ہے کہ بسااوقات جب مؤذن اذان دیتا ہے اور وہ اپنے شوہر کو اس کے نہ چاہنے کے باوجود بھی اسے بھاری نیندسے اٹھانے کی کوشش کرتی ہوں تو وہ کبھی تو جماعت کے فوت ہوجانے کے بعد اٹھ جاتاہے یا کبھی کبھی جب اٹھتا ہے تو عین نماز کے وقت اسے جماع کی چاہت ہوتی ہے تو اس طرح اس کی نماز جب فوت ہوجاتی ہے تو وہ گھر میں ادا کرلیتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس حال میں نماز کی کی فوتگی پر گناہگار ہوگا؟ اور اگر بیوی خاوندکا کہنا مان کر ایسا کرے تو اس پر کیا آئے گا؟

زوجي لا يحرص على صلاة الجماعة؟

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا جواب یہ دیتے ہیں:

آپ کو چاہئے کہ اس کو نماز کے اٹھانے اور نصیحت کرنے میں اپنے آپ کو خوب کوشش کریں اگر اس کے باوجود بھی آپ اس کو اٹھا نہ پائیں تو پھر آپ پر کوئی گناہ نہیں ، اور ساتھ ساتھ اس کو یہ نصیحت بھی کریں کہ وہ نیند سے جلدی اٹھنے کے اسباب اختیارکرے اور آئندہ نماز کو قائم کرنے کے لئے پختہ عزم کرے اور نماز باجماعت ادا کرنے کی فضیلت اور اس پر جو اجروثواب ملتا ہے اس سے بھی اچھی طرح باخبر ہوجائے ۔ باقی رہی اس کی نماز کے وقت اپنے جذبات کے آتش فشاں کوٹھنڈا کرنے کی بات تو یہ ایک واقعی ایسا شرعی عذر ہے جس کی وجہ سے اس کے لئے نماز کا مؤخر کرنا جائز ہے جیسا کہ امام مسلمؒ نے حضرت عائشہ ؓ سے حدیث روایت کی ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا:’’ جب کھانا حاضر ہو اور قضائے حاجت (چھوٹے بڑے پیشاب) کی ضرورت ہو تو اس وقت نماز نہ پڑھو‘‘۔اور آپ کی یہ ذکر کردہ بات رسول اللہکے ذکرکردہ فرمان کے معنی میں ہے اس لئے کہ اس میں بھی عدمِ فراغت اوراشتغالِ قلب لازم آتا ہے ۔لہٰذا اس لئے اللہ کے رسول نے انسان کو ان دوحالتوں میں نماز پڑھنے سے روکا ہے اس لئے کہ ان دو حالتوں میں نماز کی طرف دھیان کی بجائے دل کہیں اور مشغول ہوتاہے اور یہ دو نوں حالتیں نماز کو کامل طریقے سے پڑھنے کے بجائے اس میں جلدی کرنے اور اس میں خلل کا سبب بنتے ہیں ۔ ابودرداء ؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ زیرک و دانا کی علامت یہ ہے کہ وہ پہلے اپنی حاجت پوری کرے پھر اس کے بعد (تمام جھمیلوں سے فارغ ہوکر )خالی دل کے ساتھ نمازپڑھے‘‘۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

11/11/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف