الاحد 5 جمادى آخر 1442 هـ
آخر تحديث منذ 1 ساعة 42 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاحد 5 جمادى آخر 1442 هـ آخر تحديث منذ 1 ساعة 42 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

متکبر شخص کے سامنے کبر اپنانا

مشاركة هذه الفقرة

متکبر شخص کے سامنے کبر اپنانا

تاريخ النشر : 16 ربيع آخر 1438 هـ - الموافق 15 يناير 2017 م | المشاهدات : 1496

اس قول کی کیا حیثیت ہے صحت کے اعتبار سے؟ (اہل کبر کے سامنے کبر اپنانا عبادت ہے)

الكبر على المتكبر

 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! یہ قول نبی کریم سے ثابت نہیں ہے اور نہ ہی سنت کے اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت ہے۔ ہاں اگرتکبر کو اس معنی میں لیا جائے جو کہ علماء کی ایک جماعت نے ذکر کیا ہے کہ متکبر کے شخص کے سامنے کبر اپنانا ان صورتوں سے مستثنیٰ ہے جن کے بارے میں تحریم وارد ہوئی ہے۔ امام شافعی ؒ سے ان کایہ قول منقول ہے کہ متکبر کے سامنے دوگنا تکبر کرو اور امام زہری ؒ سے منقول ہے کہ دنیا کے پجاریوں پر جبر و تکبر اسلام کی مضبوط ترین رسی ہے۔

اور جو معنی زیادہ ظاہر لگ رہا ہے کہ یہ امر متکبر کے علاج کے قبیل میں سے ہے جس کا تعلق اجتہاد سے ہے تاکہ متکبر آدمی اپنے کبر وعناد میں حد سے تجاوز نہ کرے کیونکہ اگر وہ متواضع اشخاص کی تواضع دیکھے گا تو مزید دھوکے میں پڑ جائے گا، اور ان مذکورہ علماء کا یہ مقصد وہ کبر نہیں جو کہ حق کے آڑے آتا ہے یعنی حق کو رد کرنے کا معنی دیتا ہے اور لوگوں کی حقارت دل میں لاتا ہے، مزید یہ کہ بہترین طریقہ کبر کے علاج کا وعظ و نصیحت اور اللہ کی ذات کی یاد دہانی بھی ہے۔

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

  15 /11 /1428هـ

مواد ذات صلة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف