الخميس 28 ربيع آخر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 13 ساعة 20 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الخميس 28 ربيع آخر 1443 هـ آخر تحديث منذ 13 ساعة 20 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

احادیث صحیحہ کو رد کرنے کے لئے حضرت عمر ؓ کے قول سے استدلال کرنا۔

مشاركة هذه الفقرة

احادیث صحیحہ کو رد کرنے کے لئے حضرت عمر ؓ کے قول سے استدلال کرنا۔

تاريخ النشر : 25 ربيع آخر 1438 هـ - الموافق 24 يناير 2017 م | المشاهدات : 659

جناب میرا سوال یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ فاطمہ بن قیس کی جس حدیث کو رد کیا ہے اس سے استدلال کرنا جائز ہے کہ جس عورت کو تین طلاقیں ہو جائے تو نہ اس کو رہائش دی جائے گی اور نہ نان نفقہ؟ اور ان کا یہ کہنا کہ ہم اللہ کی کتاب میں کسی عورت کے قول کے لئے کوئی آیت رد نہیں کریں گے اس لئے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اسے یاد ہے یا بھول گئی ہے۔ جیسا کہ دور حاضر کے بہت سے لوگ احادیث صحیحہ بلکہ متواتر تک کی رد کرتے ہیں کہ وہ ان کے دعویٰ کے مطابق ان کو قبول کرنے سے پہلے ان کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے اور ان کے معانی اور اسباب نزول میں وغیرہ میں خوب غور و خوض کرنا چاہیے جو کہ بہت سی سنتوں کے ضائع ہونے کا سبب بنتا ہے اور بسا اوقات تو بعض ان میں ضعیف اور موضوع احادیث کو قبول کر لیتے ہیں جبکہ اپنے مذکورہ قاعدہ کی بنیاد پر احادیث صحیحہ کو رد کر دیتے ہیں۔وضاحت کا خواستگار ہوں۔

الاحتجاج بقول عمر لرد الأحاديث الصحيحة

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

ایسی تشبیہات جن میں احکام شریعت میں تخفیف اورحلت ہوتا ہے ان سے مقصود صحابہ کرام اور امت کے سلف صالحین کے اس عظیم عمل کا بیان کرنا ہوتا ہے کہ وہ آپکی بہت زیادہ تعظیم اور احترام کیا کرتے تھے، اور کہ یہی ان کا راستہ ہے جس پر وہ گامزن تھے اور جو اس کے مخالف آیا ہے تو وہ ایسے امور ہیں جن کے کچھ احوال و کیفیات اور متعلقات ہیں اور سب تحقق کے بعد ان سے ثابت ہے، اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ نصوص شرعیہ یعنی قرآن وسنت کے فہم میں تعارض کا وہم صحابہ کرام کے زمانہ میں رونما پذیر ہوا بلکہ صحابہ کرام کو جب اس بارے میں اشکال ہوا تو انہوں نے اس بارے میں اللہ کے رسول سے سوال کیا تو اللہ کے رسول نے ان کے اس سوال کا تسلی بخش جواب دیا۔

اور یہ بات روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب دو نصوص میں اس طرح تعارض آجائے کہ اس میں تطبیق و نسخ ممکن نہ ہو تو پھر ان میں ایک کو راجح اور دوسرے کو مرجوح قرار دیا جاتا ہے اور عمر ؓ سے نقل کردہ اس مسئلے میں انہوں نے یہی کیا ہے۔ باقی امام احمد ؒ نے اس حدیث کو ضعیف و منکر قرار دیا ہے جو عمرؓ سے اس بارے میں منقول ہے کہ ہم اپنے دین میں کسی عورت کے قول کو جائز نہیں قرار دیں گے۔ بہر کیف ! جن کے دلوں میں کفر و نفاق کا روگ رچا بسا ہے ان کے عمل کو ان لوگوں کے عمل پر قیاس نہیں کیا جاسکتا جن کے دلوں میں ایمان پختہ و راسخ ہو چکا ہو اور ان کو ہدایت کے دولت سے بھی مالا مال کیا گیا ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: جن لوگوں کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھا پن ہے وہ مشتبہ چیزوں کی اتباع کرتے ہیں، (آل عمران: ۷)۔

اے اللہ ! ہمیں سیدھی راہ دکھا اور ہمیں ہمارے نفوس کی شرور سے بچا۔ آمین

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف