الاربعاء 21 رجب 1442 هـ
آخر تحديث منذ 5 ساعة 59 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 21 رجب 1442 هـ آخر تحديث منذ 5 ساعة 59 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

میڈیکل میں تدریب اور مہارت کے لئے مریض کی شرمگاہ منکشف کرنا

مشاركة هذه الفقرة

میڈیکل میں تدریب اور مہارت کے لئے مریض کی شرمگاہ منکشف کرنا

تاريخ النشر : 18 جمادى أول 1438 هـ - الموافق 15 فبراير 2017 م | المشاهدات : 569

محترم جناب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ کیا میدیکل کے طالبعلم کے لئے بقصدِ تدریب مریض کی شرمگاہ کی رسائی جائز ہے جبکہ جنس بھی مختلف ہو یا پھر ایسی حالت ہو کہ جنس بھی ایک ہی ہو؟ اور کیا یہ ضرورت میں شامل ہے کہ معالج کے حکم کی طرح اس کا بھی حکم ہو؟ امید کرتا ہوں آپ تسلی بخش جواب دینگے۔ اللہ آپ کی زندگی میں برکت دے

اطلاع الطبيب المتدرب على عورة المريض

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

مریض کے حق مین تو یہ بلا شبہ ضرورت نہیں کیونکہ اس کی ضرورت تو علاج کرنے والے ڈاکٹر کے دیکھنے سے بھی پوری ہو جاتی ہے۔ اور جہاں تک طالبعلموں کی تدریب کا تعلق ہے تو کشفِ ستر سے استغناء بھی ممکن اس صورت میں کہ تدریب کے دوسرے وسائل اختیار کر لئے جائیں۔ ایسے وسائل سے شرمگاہ کھولنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور خاص طور پر میڈیکل کے مجال میں تو شرمگاہ کے معائنہ میں بڑا غور و تدبر کرنا پڑتا ہے اور مختلف زاویوں سے مشاہدہ ہوتا ہے۔ اور جدید ٹیکنالوجی نے تو ایسی ایجادات فراہم کی ہیں جو تدریب کے میدان میں کشفِ عورۃ یعنی شرمگاہ کے کھولنے سے مستغنی کر دیتی ہیں لہٰذا اس کی ضرورت نہیں رہتی۔ اور یہ تمام تفصیل جس میں عدمِ جواز ہے یہ ایسی صورت میں ہے جب کشفِ عورۃ سے مقصود صرف مشاہدہ کرنا ہو۔ اور جہاں تک ایسی صورت کا تعلق ہے جہاں مقصود یہ ہو کہ تدریب حاصل کرنے والا شخص اپنے ماہر استاد کی زیرِ نگرانی تشخیص اور تفصیلی معائنہ کرے تو اس بارے میں یہی راجع معلوم ہوتا ہے کہ یہ جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں مگر یہ واجب ہوگا کہ جس حد تک مقصود حاصل ہو جائے اس سے زیادہ کشف نہ کیا جائے۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

9 /11/ 1428هـ

مواد جديدة

مواد ذات صلة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف