اعتکاف معمولی سے نکلنےسے بھی ٹوٹ جاتا ہے؟
هل الخروج اليسيرمن المسجد يقطع الاعتكاف
اعتکاف معمولی سے نکلنےسے بھی ٹوٹ جاتا ہے؟
هل الخروج اليسيرمن المسجد يقطع الاعتكاف
الجواب
حامداََ و مصلیاََ۔۔۔
اما بعد۔۔۔
اصل میں اعتکاف کے دوران مسجد میں رہنا لازمی ہے الا یہ کہ کوئی ضروری حاجت پیش آجائے۔ لیکن اگر کسی ایسے کام کے لئے نکلے جس کی حاجت نہ ہو مثال کے طور پر باہر گھومنے کے لئے نکلے تو پھر اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
لہذا بلاضرورت نکلنے سے اعتکاف فاسد ہوجائے گاالبتہ اگرکسی شرعی یا طبعی حاجت کےلئےمسجد سے باہرنکلتاہوپھر اعتکاف پرکوئی اثرنہیں پڑتا،جیسےغسل ،کھانےاورقضائے حاجت کےلئے باہر نکلنا ان تمام صورتوں میں باہر خواہ وقت زیادہ گزرے یا کم، اعتکاف کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتالیکن پھر بھی زیادہ وقت گزارنامناسب نہیں مثلاکوئی اگر غسل کرنے نکلا ہے تواسکےلئے مناسب نہیں کہ وہاں لیٹ جائے کیونکہ اس کوتو ضرورت کی وجہ سے اجازت دی گئی ہے اورعبادت کےتقاضوں کی مکمل پابندی کرنی چاہئےاوراعتکاف تو ایک مسنون عمل ہے اورجب اس کے تقاضوں کوپورانہیں کرسکتا تو اس مشقت کوبرداشت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟