السبت 29 شعبان 1442 هـ
آخر تحديث منذ 1 ساعة 48 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 29 شعبان 1442 هـ آخر تحديث منذ 1 ساعة 48 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

آخری عشرہ رمضان میں تہجد کی کیفیت

مشاركة هذه الفقرة

آخری عشرہ رمضان میں تہجد کی کیفیت

تاريخ النشر : 29 جمادى أول 1438 هـ - الموافق 26 فبراير 2017 م | المشاهدات : 674

تراویح اورتہجد کے لئے بعض لوگ رمضان کے آخری عشرہ میں رات کووقت تقسیم کرلیتے ہیں کہ کچھ وقت توتہجد کے لئے مخصوص کردیتےہے اورکچھ وقت میں تراویح پڑھتےہے۔ تو کیا اس کی کوئی اصل ہے؟اورخاص کربعض لوگ تو کسی جگہ یاوقت یاصفت کوخاص کردیتے ہیں جیسےتراویح مختصر پڑھتے ہیں اوروتروں میں طوالت سے کام لیتے ہیں۔حالانکہ میں نےشیخ عطیہ محمد سالم کی کتاب میں پڑھا جس سے یہ اندازہ ہوا کہ یہ ساری اپنی خود ساختہ چیزیں ہیں اس کی کوئی اصل نہیں۔ جیساکہ امام حنبلؒ نےلکھا ہے۔

صفة صلاة التهجد في العشر الأواخر من رمضان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مجھےاس طرح کا تقسیم کار بےاصل لگتا ہے نہ تو صحابہؓ کے فعل سے اس کاکوئی ثبوت ہے اور نہ کسی سنت سے۔ اورحنابلہ نے اس کی جوگنجائش دی ہے وہ لوگوں  کی اعمال کی حالت زارکودیکھتے ہوئے یا اس بات کی طرف دیکھتے ہوئے کہ تراویح کے درمیان نفل مکروہ ہے۔کہ یہ کیسی تراویح ہے کہ امام سامنے کھڑاہےاوربندہ الگ سے تراویح یعنی نفل پڑھ رہاہے تواس کودیکھ کر انہوں نے فرمایا وہ ہم میں سے نہیں جوہم سے منہ موڑے،اوراس طرح انہوں نےجوتعقیب والی بات ذکر کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نفل اوروترتراویح کےبعد ہوگی خواہ تراویح میں طوالت ہو یامختصر۔اوربعض فقہائےشافعیہ نے یہ لکھا ہے کہ تراویح کوتراویح کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بعد استراحت یعنی آرام  حاصل کرناہے خواہ وہ نماز پڑھنے کے ذریعے ہو یا طواف کے ذریعے ہو۔۔ اس کو قلیوبی اور عمیرہ کی حاشیہ میں نقل کیا گیا ہے اور قاسمی نے اس کو اخبار مکہ (۱۵۵/۲) میں ذکر کیا ہے۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

17/09/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف