الاربعاء 8 جمادى آخر 1442 هـ
آخر تحديث منذ 37 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 8 جمادى آخر 1442 هـ آخر تحديث منذ 37 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

روزہ دار کے منہ میں خون چلا جانا

مشاركة هذه الفقرة

روزہ دار کے منہ میں خون چلا جانا

تاريخ النشر : 30 جمادى أول 1438 هـ - الموافق 27 فبراير 2017 م | المشاهدات : 499

محترم جناب ! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ،جب روزدار کا منہ زخمی ہوجائے اورخون گلے سے اتر جائے تو کیا روزہ صحیح رہتاہے یاٹوٹ جاتا ہے؟

دخول شيء من الدم لبلعوم الصائم

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

اما بعد۔۔۔

تمام روزہ توڑدینے والی چیزوں میں ضروری ہے کہ وہ بندہ کے اختیاراورارادے اوردیھان سے ہولہذا جوچیزپیٹ میں بغیر اختیارکے جائے تو اس سے روزہ فاسد نہ ہوگا ۔کیونکہ اس میں بندہ کااختیار اور ارادہ نہیں ہوتا ۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے : ’’جوتم سے غلطی سے صادر ہو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں البتہ جس کا تمہارے دل قصد کرے ‘‘ (الاحزاب ۔۵)اور ابن ماجہ کی ایک حدیث میں آتا ہے (۲۰۴۵)اور اس کے ساتھ معنوی اعتبار سے حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث بھی متفق ہے کہ نبینے فرمایا ( بے شک اللہ نے میری امت سے خطا اور بھول معاف کردی ہے اور وہ چیز یں بھی جن پر وہ مجبور کئے جائے )۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

19/10/1428ھ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف