حامداََ و مصلیاََ۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔
اما بعد۔۔۔
یہ بات یقینی ہے کہ اس طرح کا شدید مرض ہو تو روزہ توڑ دینا درست ہے اور افضل یہ ہے کہ روزے کی وجہ سے آپ اپنے کو زیادہ مشقت میں نہ ڈ الے اس لئے اگر بعد میں قضاء رکھنے پر قادر ہو تو قضاء کرلے یا پھر ہر روزہ کے بدلے ایک ایک مسکین کوکھاناکھلالے۔
اور یہ مسئلہ کہ خون چڑھانے کاکیا حکم ہے ؟توچاہے یہ اس مرض کے لئے ہو یا کسی اور بیماری کے لئے ہو، اکثر معاصر علماء کے ہاں اس سے روزہ ٹوٹ جاتاہے کیونکہ خون بدن میں داخل ہورہا ہے اور جس طرح کھانے پینے سے بدن کوتقویت مل جاتی ہے اس طرح یہ بھی بدن کوتقویت پہنچاتاہے ۔
اور علماء کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ بلڈ چڑھانا روزے کوفاسد نہیں کرتا کیونکہ نہ تویہ کھاناہے ، نہ پینا ہے اور نہ ان کے حکم میں ہے ۔کھانے پینے سے بدن کوتقویت دینا اور اس کے ذریعے غذا کاحصول یہ ان کے مقاصد میں سے صرف ایک مقصد ہے لہذا بغیر کھائے پیئے اس سے روزہ افطار نہیں ہوتا۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس پر بخاری(۱۹۲۲)اورمسلم(۱۱۰۲) میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی حدیث سے استدلال کرتے ہوکہ جس میں آپ ﷺنے صحابہ ؓکومسلسل بغیر کھائے پیئے روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔آپ ﷺسے عرض کیا گیا کہ( آپ مسلسل بغیر کھائے پیئے روزہ رکھتے ہیں) تو آپ نے فرمایا:(میرامعاملہ آپ کی طرح نہیں ،مجھے تو کھلایا پلایا جاتا ہے)۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ کھانا پینا نہیں تھا جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے بلکہ یہ اضافی قوت تھی جواللہ تعالی ٰ نبیﷺکوعبادت کی وجہ سے دیا کرتے تھے اور جس کی وجہ آپ کواتنی کھانے پینے کی ضرورت نہ ہوتی ۔لہذا اس کویوں بھی کہاجاسکتا ہے کہ بدن کوقوت کاحاصل ہوجانااور اس کے ذریعے بغیر کھائے پیئے استغناء کاحاصل ہوجاناروزے کونہیں توڑتا ۔
پھر اصول یہ ہے کہ روزے کے فاسدہونے کیلئے کوئی دلیل ہونی چاہئے اور اس پر نہ دلیل ہے،نہ قیاس کہ جس کے ذریعے ہم یہ کہے کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتاہے ۔لہذا اصل یہ ہے کہ بلڈ چڑھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔واللہ اعلم
آپ کا بھائی
خالد بن عبد الله المصلح
20/09/1428ھ