روزہ دار کےلئے ٹھنڈک حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟
التبرد للصائم
روزہ دار کےلئے ٹھنڈک حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟
التبرد للصائم
الجواب
حامداََ و مصلیاََ۔۔۔
اما بعد۔۔۔
اللہ تعالی کی توفیق سے جواب دیتے ہوے ہم عرض کرتے ہے کہ
ٹھنڈک حاصل کرنا میں روزہ دارکےلئے کوئی حرج نہیں ہے، لہذا روزہ دارکےلئے جائزہے کہ وہ غوطہ لگائے پانی میں تیراکی کرے یاغسل کرے۔ یا پھر اپنے بدن پر ایسی چیز ڈالے جو بدن کی حرارت کوکم کرے جس طرح کوئی گیلا کپڑا یا اس کی طرح کی کوئی اور چیز رکھے، یہ تمام وہ چیزیں ہیں جن میں روزہ دارکے لئے حرج نہیں ہے اور حقیقت میں یہ چیزیں اللہ کے حکم کی ادائیگی میں مدد گار ہوتی ہے اگراسے کوئی مشقت پہنچی ہوی ہو یا اس کو کسی چیز نے تھکا دیا ہو۔
اورمیں اپنے بھائیوں اوربہنوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہرافطار کرنے والی چیزکے متعلق مناسب یہ ہے کے ہم ایک سوال کیا کرے کہ کیا دلیل ہےاس بات پرکہ یہ چیز روزے کو تھوڑنےوالی ہے؟
مثلا اگر کوئی کہنے والا کہے کہ روزہ دارکےلئے ٹھنڈ ک حاصل کرنا روزے کوتوڑ دینے والی ہے تو ہم فوری طورپر کہے : کیا دلیل ہے اس پر؟ کیونکہ توڑدینے والی چیزیں ایسی نہیں کہ جس کولوگ اپنی طرف سے بنادے یا اس کو اپنی رائے اوراختیار اورکوشش سے پیش کرے۔ بلکہ یہ تو ایسی چیز ہے کہ اس کی نسبت کسی اصل قاعدہ یا دلیل کی طرف ضروری ہے۔ جیسا کہ روزے کا صحیح ہونا اصل قاعدہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر روزہ دار کو غسل کی ضرورت ہو ٹھنٖڈک حاصل کرنے کے لئے یا صفائی کرنے کےلئے یا اس کے علاوہ کسی اور وجہ کے لیے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور صحیححین میں ہے کہ نبی ﷺ جنابت کی حالت میں صبح کرتے تھے جس طرح کے حضرت ام سلمہؓ اورحضرت عائشہؓ کی حدیث میں کہ (اور غسل کرتے نبیﷺ صبح کے بعد)۔ اور اگر غسل روزے کو توڑنے والا ہوتا توفرق نہ کرتے جنبی اور غیر جنبی میں کیونکہ یہ بھی روزہ توڑوانے والی چیزوں میں سے ہوتا۔ جس طرح کہ اگرانسان لذت کےلئے کھانا کھائے یا بھوک کی وجہ سے کھائے پس اگر کھانا کھانا روزہ توڑنے والا ہو تو ضرورت مند اور غیر ضرورت مند میں فرق نہیں کیاجائےگا۔