قضاء کی نیت کی کیا کیفیت ہو؟
نية قضاء الصوم
قضاء کی نیت کی کیا کیفیت ہو؟
نية قضاء الصوم
الجواب
حامداََ و مصلیاََ۔۔۔
اما بعد۔۔۔
اللہ تعالی کی توفیق سے جواب دیتے ہوے ہم عرض کرتے ہے کہ
نیت کے بارے میں ایسی کوئی خاص بات نہیں ہےجس کو بیان کیا جائے۔ بلکہ نیت نام ہےدل کے ارادےکا۔ بس اتنا کافی ہے کہ دل میں اس بات کا ارادہ کرے کہ کل میں نے روزہ رکھنا ہے۔ اور یہ ارادہ سحری کرنے سے ظاہرہوجاتا، یا شام کا کھانا زیادہ کھانےسے۔ اگر شام کا کھانا کھایا کرتاہو یا سحری کرتا ہوں اور اس کی طرح کوئی اور کھانے کی عادت ہو۔
اس عورت نے اپنے سوال میں ایک اور بات بھی ذکرکی کہ وہ پہلے دن کی نیت کرتی ہے ، پھر اپنے قضاء کے دنوں میں سے دوسرے دن کی قضاءکی نیت کرتی ہے، تواس کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس بات کی ضرورت نہیں ہےکہ یہ کہے کہ یہ قضاء ہےپہلے دن کی ان دنوں میں سے جو میں نے افطار کئے تھے اور یہ اس میں سے دوسرے دن کی قضاء ہے۔ بلکہ ایسی نیت کرے گی کہ یہ پانچ دنوں میں سے ایک دن کی قضاء ہے اوربس بات ہی ختم۔ جیسا کہ اگر اس عورت پر پانچ دن کے روزوں کی قضاء ہو۔ اس سے یہ بات لازم نہیں ہوتی کہ رمضان کے قضاء روزوں کے پہلے دن کی نیت کرے۔ پھر رمضان کے قضاء روزوں کے دوسرے دن کی قضاء نیت کرے، پھر رمضان کے قضاء روزوں کے تیسرے دن کی قضاء نیت کرے۔ اس طرح سے تعیین کرنا اپنی طرف سے غلو کرناہے جوکہ نہ مشروع ہے اورنہ جائزہے۔
اوراللہ تعالٰی فرماتے ہیں [جوتم میں سےمریض ہویاسفرمیں ہوتو اس پر روزہ ہے دوسرے دنوں کی عدد میں] (البقرۃ ۔۱۸۴) دوسرے دنوں کی گنتی میں قضاء کرے گی جواس کے ذمے تھی بغیر تعیین کے، پس نیت دل کا عزم ، پختہ یقین ہے اور سچا ارادہ ہےاوراس کے اوپر کچھ بھی نہیں۔