رمضان کے مہینے میں بعض کلینڈروں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ان میں ایک خانہ ہوتا ہےجس کوامساک کہا جاتا ہے اور اس کو فجرسے تقریبا دس منٹ یا سوا گھنٹہ پہلے رکھا جاتا ہے،تو کیا اس کی سنت میں کوئی اصل ہے یا یہ کوئی بدعت ہے؟
الإمساك قبل الفجر بنحو عشر دقائق
رمضان کے مہینے میں بعض کلینڈروں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ان میں ایک خانہ ہوتا ہےجس کوامساک کہا جاتا ہے اور اس کو فجرسے تقریبا دس منٹ یا سوا گھنٹہ پہلے رکھا جاتا ہے،تو کیا اس کی سنت میں کوئی اصل ہے یا یہ کوئی بدعت ہے؟
الإمساك قبل الفجر بنحو عشر دقائق
الجواب
حامداََ و مصلیاََ۔۔۔
اما بعد۔۔۔
اللہ تعالی کی توفیق سے جواب دیتے ہوے ہم عرض کرتے ہے کہ
یہ بعض کلینڈروں میں فجر سے پہلے کا وقت لکھنا جس کی طرف آپ نےاشارہ کیا ہے یا سائل نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے،بلا شبہ اسکی کوئی اصل نہیں۔ نبیﷺ کی سنت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور یہ بعض لوگوں کی اپنی پسند اوراجتہاد ہے۔ جس میں انہوں نے نبیﷺ کی مخالفت کی ہے،کیونکہ نبیﷺ نے اپنےصحابہؓ کوفرمایا جیسا کہ صحیح میں ہے (تمہیں نہ روکے "سحری سے" بلالؓ کی اذان کیونکہ یہ رات کواذان دیتاہے) یہ اس اذان کی طرف اشارہ ہے جو طلوع فجر سے پہلے ہے، (لیکن ابن مکتوم کی اذان) جو فجرکے واضح ہونے کے وقت اذان دیتا ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے: (کیونکہ وہ اذان نہ دیتے جس وقت تک ان کوکہا نہ جاتا کہ صبح ہوگئی ،صبح ہوگئی)۔ یعنی صبح واضح ہوگئی۔ یہ تو ایک وجہ ہے۔
اور اس سے ہمارے لئے واضح ہوتا ہے کہ نبیﷺ نے لوگوں کواذان کے وقت سے پہل کرنے سے روکا تھا۔ اورفرمایا کہ (نہ روکے تم کو) اوریہی وجہ ہےکہ جوشخص بھی کسی بھی ذریعہ کے ساتھ ان چیزوں کےکھانےسے روکےگا جن کواللہ نے حلال کیا ہے خواہ لکھنے کے ذریعہ سے ہویا قول کے ذریعہ سے ہو تو وہ نبی ﷺ کی سنت کی مخالفت میں پڑگیا۔
اللہ تعالیٰ روزے کی آیت میں فرماتے ہیں (پس اب مباشرت کرواپنی بیویوں سے اور تلاش کرو وہ جواللہ نے لکھا ہے تمھارےلئے اور کھاؤ پیؤ یہاں تک کہ تمہیں سفید دھاگہ اور کالا دھاگہ علیحدہ علیحدہ نظر آجائے فجرمیں سے) (البقرۃ:۱۸۷) تو اس حکم کے دارومدارکو صبح کی واضح ہونے پر رکھا۔ اور احتیاط کی وجہ سے پہل کرنے پر دارومدار نہ رکھا یا صبح کے واضح ہونےسے پہلے روزہ رکھنے پر بھِی نہ رکھا۔
لہذا نبیﷺ کی سنت کی پابندی ہونی چاہیے اور لوگوں کو ایسے احکامات میں حرج ومشقت میں نہیں ڈالنا چاہیے جن کا حکم اللہ نے دیا ہی نہیں۔ اور اس مسئلہ اصل قاعدہ وہ ہے جو دلائل میں آیا ہے کہ لوگوں کے لئے جائز ہے کہ کھائے پئے یہاں تک کہ واضح ہوجائے سفید دھاگہ کالے دھاگے سے فجرمِیں سے۔