الثلاثاء 15 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 8 ساعة 22 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الثلاثاء 15 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 8 ساعة 22 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

فجرکے وقت سے تقریبا دس منٹ پہلے روزہ رکھنا؟

مشاركة هذه الفقرة

فجرکے وقت سے تقریبا دس منٹ پہلے روزہ رکھنا؟

تاريخ النشر : 1 جمادى آخر 1438 هـ - الموافق 28 فبراير 2017 م | المشاهدات : 537

رمضان کے مہینے میں بعض کلینڈروں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ان میں ایک خانہ ہوتا ہےجس کوامساک کہا جاتا ہے اور اس کو فجرسے تقریبا دس منٹ یا سوا گھنٹہ پہلے رکھا جاتا ہے،تو کیا اس کی سنت میں کوئی اصل ہے یا یہ کوئی بدعت ہے؟

الإمساك قبل الفجر بنحو عشر دقائق

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ تعالی کی توفیق سے جواب دیتے ہوے ہم عرض کرتے ہے کہ 

یہ بعض کلینڈروں میں فجر سے پہلے کا وقت لکھنا جس کی طرف آپ نےاشارہ کیا ہے یا سائل نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے،بلا شبہ اسکی کوئی اصل نہیں۔ نبیﷺ کی سنت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور یہ بعض لوگوں کی اپنی پسند اوراجتہاد ہے۔ جس میں انہوں نے نبیﷺ کی مخالفت کی ہے،کیونکہ نبیﷺ نے اپنےصحابہؓ کوفرمایا جیسا کہ صحیح میں ہے (تمہیں نہ روکے "سحری سے" بلالؓ کی اذان کیونکہ یہ رات کواذان دیتاہے) یہ اس اذان کی طرف اشارہ  ہے جو طلوع فجر سے پہلے ہے، (لیکن ابن مکتوم کی اذان) جو فجرکے واضح ہونے کے وقت اذان دیتا ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے: (کیونکہ وہ اذان نہ دیتے جس وقت تک ان کوکہا نہ جاتا کہ صبح ہوگئی ،صبح ہوگئی)۔ یعنی صبح واضح ہوگئی۔ یہ تو ایک وجہ ہے۔

اور اس سے ہمارے لئے واضح ہوتا ہے کہ نبیﷺ  نے لوگوں کواذان کے وقت سے پہل کرنے سے روکا تھا۔ اورفرمایا کہ (نہ روکے تم کو) اوریہی وجہ ہےکہ جوشخص بھی کسی بھی ذریعہ کے ساتھ ان چیزوں کےکھانےسے روکےگا جن کواللہ نے حلال کیا ہے خواہ لکھنے کے ذریعہ سے ہویا قول کے ذریعہ سے ہو تو وہ نبی ﷺ کی سنت کی مخالفت میں پڑگیا۔

 اللہ تعالیٰ روزے کی آیت میں فرماتے ہیں (پس اب مباشرت کرواپنی بیویوں سے اور تلاش کرو وہ جواللہ نے لکھا ہے تمھارےلئے اور کھاؤ پیؤ یہاں تک کہ تمہیں سفید دھاگہ اور کالا دھاگہ علیحدہ علیحدہ  نظر آجائے فجرمیں سے) (البقرۃ:۱۸۷) تو اس حکم کے دارومدارکو صبح کی واضح ہونے پر رکھا۔ اور احتیاط کی وجہ سے پہل کرنے پر دارومدار نہ رکھا یا صبح کے واضح ہونےسے پہلے روزہ رکھنے پر بھِی نہ رکھا۔

 لہذا نبیﷺ کی سنت کی پابندی ہونی چاہیے اور لوگوں کو ایسے احکامات میں حرج ومشقت میں نہیں ڈالنا چاہیے جن کا حکم اللہ نے دیا ہی نہیں۔ اور اس مسئلہ اصل قاعدہ وہ ہے جو دلائل میں آیا ہے کہ لوگوں کے لئے جائز ہے کہ کھائے پئے یہاں تک کہ واضح ہوجائے سفید دھاگہ کالے دھاگے سے فجرمِیں سے۔

مواد ذات صلة

مواد مقترحة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف