کیا ایسے مریض کے لئے روزے کا توڑنا جائز ہے جس کے گردے فیل ہوگئےہو؟
هل يجوز الفطر لمريض مصاب بمرض الفشل الكلوي؟
کیا ایسے مریض کے لئے روزے کا توڑنا جائز ہے جس کے گردے فیل ہوگئےہو؟
هل يجوز الفطر لمريض مصاب بمرض الفشل الكلوي؟
الجواب
حامداََ و مصلیاََ۔۔۔
اما بعد۔۔۔
اللہ تعالی کی توفیق سے جواب دیتے ہوے ہم عرض کرتے ہے کہ
اگر گردے کا واش اس کے اوراس طاقت کےدرمیان جس طاقت والے پراللہ نے روزوے فرض کئے ہیں رکاوٹ بنتا ہوں تو پھر یہ روزے اس پر واجب نہیں ہے ۔ باقی رہا یہ کہ کیا یہ مسلسل رہتا ہے، مطلب یہ کہ مسلسل وہ شخص طاقت نہیں رکھ سکتا یا صرف واش کےدنوں اسے روزہ رکھنے کی قدرت نہیں رہتی اوران دنوں کےعلاوہ میں وہ روزوں کی قدرت رکھتا ہو؟ تو اگر مسلسل طورپر طاقت نہ رکھتا ہو تو ہردن کےبدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے ،اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے (اوران لوگوں پر جو طاقت رکھتے ہوتو ان پر فدیہ ہےایک مسکین کے بقدر)(البقرۃ:۱۸۴) اوریہ قول جمہور علماء کا ہے ۔
اوراگر ان واش والے ایام کے علاوہ میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو تو وہاں ہم کہتے ہیں کہ جن دنوں میں طاقت نہ رکھتا ہو ان دنوں میں افطار کرے پھر بعد میں ان کی قضا کرے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے (پس جوتم میں سے مریض ہو یا سفر میں تواس پر دوسرے دنوں کے روزے ہیں) (البقرۃ :۱۸۴)۔