اس عورت کے لئے کیا حکم ہے جو قضاء کو اتنا موخر کرے کہ دوبارہ رمضان آپھنچے؟
أخرت القضاء حتى أدركها رمضان
اس عورت کے لئے کیا حکم ہے جو قضاء کو اتنا موخر کرے کہ دوبارہ رمضان آپھنچے؟
أخرت القضاء حتى أدركها رمضان
الجواب
اما بعد۔۔۔
اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ
جو عورت کسی عذر کی وجہ سے قضاء روزے نہ رکھ سکی تواس پر بالاتفاق سوائے قضاء روزوں کے کچھ نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (اور اگر کوئی شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے)(البقرۃ:۱۸۴)لہذا اس پر سوائے اس کے کچھ نہیں ہے۔
اور جہاں تک کھانا کھلانے کامسئلہ ہے تو جمہورعلماء کےقول کےمطابق کھانا کھلانا اس وقت لازم ہوتا ہے جب انسان تاخیر کرکے کوتاہی کرتا ہے۔ لیکن اگر یہ تاخیر کسی عذر کیوجہ سے ہو توپھر سب کا اتفاق ہے کہ اس پرصرف قضاء ہی ہے اوراگر یہ تاخیر بغیرعذر کے ہو تو جمہور کا قول یہ ہے کہ اس پرقضاء کرنے کے ساتھ ساتھ کھانا کھلانا بھی واجب ہے۔ اوراہل علم کی ایک جماعت کی رائے ہے کہ روزے قضاء کرنا واجب ہے اورکھانا کھلانا سنت ہے اوریہی قول سب سےزیادہ راجح ہےکہ کھانا کھلانا واجب نہیں ہے بلکہ صرف مستحب اورمسنون ہے کیونکہ یہ حضرت ابوہریرہؓ اورابن عمرؓاورصحابہؓ کی ایک جماعت سے وارد ہے ۔