السبت 29 شعبان 1442 هـ
آخر تحديث منذ 2 ساعة 45 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 29 شعبان 1442 هـ آخر تحديث منذ 2 ساعة 45 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

ایسا گانا جس میں موسیقی ہو

مشاركة هذه الفقرة

ایسا گانا جس میں موسیقی ہو

تاريخ النشر : 2 جمادى آخر 1438 هـ - الموافق 01 مارس 2017 م | المشاهدات : 545
- Aa +

محترم جناب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ ایساگاناسننے کا کیا حکم ہے جس میں موسیقی ہو ؟

الغناء المصحوب بموسيقا

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اہلِ علم کے درمیان قابل مذمت گانے کی حرمت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ، ایسا گانا جو فساد اور معصیت کا داعی ہو اور فسق و معاصی پر ابھارتاہو ، چاہے یہ کیفیت اس کے کلمات میں ہو یا طریقۂ ادا میں ہو، امام قرطبیؒ نے اپنی تفسیر میں اس بات پر اجماع نقل کیا ہے  (۴۷/۱۴) فرماتے ہیں : "اس نوع کے گانے میں اگر ایسے اشعار ہوں جو عورتوں کے ذکر سے لبریز ہوں اور ان کی خوبصورتی بیان کرتے ہیں اور شراب اور دیگر حرام اشیاء کا ذکر لئے ہوئے ہوں تو اس کی حرمت میں کوئی اختلاف نہیں اس لئے کہ یہ لہو ہے اور بالاتفاق قابل مذمت گانا ہے‘‘ اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ اس میں موسیقی کے آلات استعمال ہوں یا نہیں۔

اوراسی طرح اہلِ علم کا اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں کہ ایسا گانا جو بغیر آلات موسیقی کے ہو جائز ہے ۔ اور صحابہ نے بھی اسے اختیار کیا ۔ امام  نوویؒ شرح مسلم (۱۸۳/۶) میں فرماتے ہیں : "عرب شعر کہنے کو غناء یعنی گانا کہتے ہیں یہ وہ گانا نہیں جو کہ مختلف فیہ ہے بلکہ یہ مباح ہے‘‘ اما م شوکانی نے اسے امام غزالی اور ابن طاہر سے نقل کیا ہے ۔

اور جہاں تک ایسے گانے کا تعلق ہے جوموسیقی کے ساتھ ہو اور اس کے اشعار میں کسی قسم کی برائییا فسق نہ ہو تو اہل علم میں سے متعدد افراد نے اس کی حرمت پر بھی اجماع نقل کیا ہے جن میں طبری اور ابن رجب بھی شامل ہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ اس میں اجماع نہیں کیونکہ قول مخالف بھی موجود ہے ۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری(۴۴۳/۲) میں آلات موسیقی کی بات کے دوران ذکر کیا ہے : ایک جماعت نے معازف یعنی آلات موسیقی کی حرمت پر اجماع نقل کیا ہے اور ایک جماعت نے اس کا عکس ذکر کیا ہے ۔ لیکن بغیر کسی شک و شبہ کے یہ بات تو ثابت ہے کہ ہر دور میں جمہور علمائے امت نے آلات موسیقی کی حرمت کے قائل رہے ہیں ، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ مجموع الفتاوی( /۱۱۵۷۶) میں لکھتے ہیں :’’ائمہ اربعہ کا مذہب یہی ہے کہ آلات موسیقی سب کے سب حرام ہیں‘‘ اور یہ بھی تحریر کرتے ہیں ’’ائمہ کے متبعین میں سے بھی کسی نے ان آلات کے بارے میں کوئی نزاع(اختلاف ) ذکر نہیں کیا‘‘ پھر فرماتے ہیں (۲۲۹/۷۲) ’’ جمہور مسلمان ان کی تحریم ہی کے قائل ہیں جبکہ بعض نے انہیں مباح بھی کہا ہے ‘‘۔

قائلینِ حرمت کا استدلال قرآن، سنت اور آثار صحابہ ؓ سے ہے جن میں سب سے أظہر بخاری کی روایت ہے جو انہوں نے کتاب الأشربہ میں تعلیقا ذکر کی ہے  (۲۱۲۵/۵) ہشام بن عمار کہتے ہیں : ہمیں صدقہ بن خالد نے بتلایا……ثناعبدالرحمان بن یزید عن عطبۃ بن قیس الکلابی عبدالرحمان عن الغنم الاشجعی قال: حدثنی ابوعامر اوابومالک الاشعری عن النبیقال یعنی اس طریق سے ذکر کرتے ہیں کہ آپنے ارشاد فرمایا: ’’ضروربالضروربری امت کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو ریشم ، شراب اور موسیقی کے آلات کو حلا ل سمجھیں گے‘‘۔اور حدیث میں سے استدلال حلال سمجھنے کے لفظ میں ہے کیونکہ یہ اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ یہ سب حرام ہیں اور حلال سمجھنے سے مراد یہ ہے کہ کہ وہ ان کا استعمال کریں گے جیسا کہ حلال چیز استعمال کی جاتی ہے ۔

اباحت کا کہنے والوں نے اس حدیث کے ثبوت اور دلالت کے بارے میں کلام کیا ہے یہاں تک کہ ابن العربی المالکی نے کہا ہے کہ عدم جواز کا کہنے والوں نے جن روایات سے استدلال کیا ہے وہ صحیح نہیں ہیں ۔

ابن حجرؒ نے فتح الباری(۵۲/۱۰) میں یہ واضح کیا ہے کہ بخاری نے جو روایت ذکر کی ہے وہ صحیح ہے اور ساتھ میں انہوں نے تضعیف کرنے والوں کا جواب بھی دیا ہے ۔

جوبھی ہو ، مجھے تو راجح یہی معلوم ہورہا ہے کہ عدم جواز کا قول زیادہ أقرب ہے ، اور اس میں سے جن آلات کی اجازت دی گئی ہے یعنی دف وغیرہ ان کا استثناء کیا جائے گا اور وہ بھی عید یا شادی وغیرہ کے خاص مواقع پر۔ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ۔

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

    17 /2 /1427هـ

 

مواد ذات صلة

مواد مقترحة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف