الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ
آخر تحديث منذ 8 ساعة 46 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ آخر تحديث منذ 8 ساعة 46 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

لڑکیوں کا کسی مرد کے پاس خصوصی تدریسی نشستوں میں پڑھنا یا اس کے برعکس

مشاركة هذه الفقرة

لڑکیوں کا کسی مرد کے پاس خصوصی تدریسی نشستوں میں پڑھنا یا اس کے برعکس

تاريخ النشر : 2 جمادى آخر 1438 هـ - الموافق 01 مارس 2017 م | المشاهدات : 747

محترم جناب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ لڑکیوں کا پڑھائی کی خصوصی نشستوں میں مردوں کے پاس پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ اور اسی طرح لڑکوں کا ایسی نشستوں میں عورتوں کے پاس پڑھنا؟

الدروس الخصوصية للفتيات عند رجل والعكس

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

اس طرز کی مخصوص نشستوں کا عرف میں آجانا تعلیمی نظام کی کمزوری اور ناکامی کی نشانی ہے چاہے اس کمزوری اور خلل کی وجہ تعلیمی طریقے اور معلمین ہوں یا طلباء و طالبات اور ان کے خاندان ہوں۔

تحقیق سے تو یہی بات سامنے آئی ہے کہ اس طرح کی نشستوں کا عرف میں آجانے کا نقصان زیادہ ہے بنسبت ان فوائد کے جو ان سے حاصل ہوں۔ ان نقصانات میں مزید اضافہ تب ہوتا ہے جب ان نشستوں میں لڑکیوں کی تعلیمی ذمہ داری مرد کے سپرد کردی جائے یا لڑکوں کی پڑھائی کی ذمہ داری کسی خاتون کو سونپ دی جائے ۔ اور ان مفاسد اور نقصانات کا تحقق صرف اسی صورت تک محدود نہیں کہ جب ایسی مجالس میں خلوت ہو بلکہ بعض تو ایسے نقصانات ہیں جن کا تعلق شریعت سے ہے اور بعض کا تعلق تربیت سے ہے ان مفاسد کو بعض صاحب اختصاص لوگ ہی محسوس کرسکتے ہیں ۔ شرعی نقصانات جو کہ ان نشستوں سے واقع ہوتے ہیں وہ یہ کہ فتنے کا اندیشہ رہتاہے اور فتنہ میں واقع ہونے میں عمر کی کسی قید یا فرق کا دخل نہیں ہے ، چاہے طالب علم اور پڑھانے والی خاتون میں عمر کا خاصا فرق ہو یا اس کے برعکس معاملہ ہو تو بھی یہ اندیشہ رہتاہے اور دیکھنے میں بھی یہی آیا ہے اور خاص طور پر ایسی مخصوص نشست میں طالب علم اور استانی کے درمیان کافی قربت ہوتی ہے ، کلام کے اعتبا رسے نرمی ، بدنی قربت اور دیگر ایسے عوامل ہوتے ہیں جو کہ اجنبی مرد اور عورت کے درمیان قطعا جائز نہیں ۔

یہ کوئی مبالغہ آمیز بات نہیں بلکہ دیکھنے میں کچھ ایسے خطرناک واقعات آئے ہیں جن کی ابتداء محض تعلیمی نشستوں ہی سے ہوئی مگر نتیجہ قابل بیان نہیں ۔ اسی وجہ سے شریعت ، وحی اور تجربہ کی روشنی میں میل فیمل اساتذہ اور طلباء وطالبات اور ان کے والدین کو میں سختی سے متنبہ کرنا چاہتاہوں کہ وہ اس معاملہ میں بالکل نرمی سے کام نہ لیں ، میری نظر میں یہ واجب ہے کہ ایسی خصوصی مجالس میں ایسے معلم کا انتخاب ہی کیا جائے جو اس جنس کا ہو۔ لہٰذاطالبات کو خواتین پڑھائیں اور طلباء کو مرد اساتذہ پڑھائیں۔

آخرمیں اللہ سے دعا ہے کہ سب کو خیر کی توفیق دے اور ہمارے بیٹے بیٹیوں کی حفاظت فرمائے اور ہمارے مردعورتوں کو ہر شر سے محفوظ فرمائے اور ان سب کے لئے توفیق اور کامیابی مقدر کردے۔

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

12 / 3 / 1435 هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف