الاربعاء 14 صفر 1442 هـ
آخر تحديث منذ 3 ساعة 37 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 14 صفر 1442 هـ آخر تحديث منذ 3 ساعة 37 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

خواتین کا پڑھائی کے لئے غیر اسلامی ملکوں میں بھیجنا اور چہرے کو ڈھانپنے کا حکم

مشاركة هذه الفقرة

خواتین کا پڑھائی کے لئے غیر اسلامی ملکوں میں بھیجنا اور چہرے کو ڈھانپنے کا حکم

تاريخ النشر : 2 جمادى آخر 1438 هـ - الموافق 01 مارس 2017 م | المشاهدات : 429

محترم جناب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ میں اپنی پڑھائی کے لئے ایک اجنبی ملک میں آیا ہوں اور یہ پڑھائی کی تکمیل تقریبا پانچ سال میں ہوگی میرا سوال یہ ہے کہ کیا میری بیوی کے لئے نقاب کشائی جائز ہے کیونکہ وہ بھی یونیورسٹی میں داخلہ لے گی اور وہاں مخلوط تعلیمی نظام ہے؟

ابتعاث النساء لبلاد غير إسلامية بقصد الدراسة، وحكم تغطية الوجه

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

کفا ر کے ملک میں جاکر رہنا تین شرائط کے ساتھ جائز ہے:

پہلی شرط:  انسان کا ایمان اتنا قوی ہو کہ اس کی خواہشات کے بیچ آڑے آجائے ۔

دوسری شرط:  اس کے پاس اتنا علم بھی ہو جس سے وہ مشتبہ اشیاء سے بچ سکے کیونکہ یہ ممالک شبہات سے بھرے پڑے ہیں جو کہ کبھی کلام سے تعلق رکھتے ہیں یعنی کوئی شخص اپنے کلام کے ذریعے سے شبہ میں ڈال دیتاہے اور کبھی یہ ایسے شبہات ہوتے ہیں جو خاص حالت سے تعلق رکھتے ہیں یعنی یہ شخص مادیت کے بہاؤ میں بہہ جاتاہے یا ترقی یافتہ احوال و نظام اسے لے ڈوبتاہے۔

تیسری شرط:  یہ بات ضروری ہے کہ کوئی نہ کوئی حقیقی حاجت ہو جس کی وجہ سے یہ سفر کررہا ہے اور حاجت مختلف لوگوں کے اعتبار سے بدلتی رہتی ہے اور کوئی ایسا قاعدہ نہیں ہے جو ہر کسی کی حاجت کو یکساں پرکھ سکے ۔ مثال کے طور پر کوئی شخص اس لئے جانا چاہتاہے کہ وہاں پڑھائی اعلیٰ معیار کی ہے اگرچہ وہ اس کے ملک یا دیگر مسلم ممالک میں بھی موجودہے مگر اس درجہ کی پڑھائی نہیں جو کہ اسے اعلیٰ منصب پر فائز کراسکے اور اس کے لئے بہت سے دروازے کھول سکے ۔ لہٰذا یہ حقیقی حاجت شمار کی جائے گی اگرچہ یہ اس حاجت سے تو کم درجہ کی ہے جو ایسے علوم کے لئے ہو جو مسلم ممالک میں موجود ہی نہیں۔

لہٰذا اگرانسان کچھ شرعی علم بھی رکھتا ہو اور ساتھ میں ایمان بھی ہو تو مجھے تو یہی رائے واضح معلوم ہوتی ہے کہ یہ حاجت اس کے لئے سفر کو جائز بنا دیتی ہے یعنی وہ اس حاجت کے تحت سفر کرسکتا ہے ۔  جب تک آپ ایسے ملک میں رہیں جہاں اہل اسلام کی تعداد کم ہے اور دیگرمذاہب کے پیروکار زیادہ ہیں تومیں آپ کو تقوی اختیار کرنے کی نصیحت کرتاہوں اور یہ کہ علم اورایمان بھی حاصل کریں، ایسا علم جو آپ کو شبہات سے بچائے گااور ایسا ایمان جو آ پ کو شہوات اور خواہشات سے روکے گا۔

لہٰذا اگر حاجت کی وجہ سے آپ غیر مسلم میں چلے بھی جائیں توکوئی حرج نہیں مگر یہ بات ذہن نشین رہے کہ آپ ایسے ملک میں ہیں جہاں اجتماعیت میں پستی ہے ، معاصی کی کثرت ہے اور یہ کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو شریعت کے ضوابط کے بالکل پابند نہیں کیونکہ وہ اسلام کے قائل ہی نہیں ۔

ان سب امور کا استحضار رہے اور اس سفر کے لئے ہر طرح کا زاد راہ ساتھ رکھئے ، اگر یہ شخص کھانے پینے کی اشیاء ساتھ رکھتا ہے تو کیا خیا ل ہے اسے اپنے دل سے تعلق رکھنے والا ایمان اور دین تیار رکھنا چاہئے یا نہیں ؟ بلکہ اس دوسری جانب میں تو زیادہ توجہ کی ضرور ہے ۔

جہاں تک عورت کے چہرے کے ڈھانپنے کا تعلق ہے تو اصول کے اعتبار سے اس میں مسلم ممالک یا غیر مسلم ممالک کا کو ئی فرق نہیں ، اگر باہر چہرہ ڈھانپنے میں کوئی نقصان کا اندیشہ ہو ، اس کا اپنا نقصان یا شوہر یا خاندان کا نقصان تو اس حال میں اس کے لئے چہرہ کھولنا جائز ہے اور یہ ضرورت کی بناء پر ہے کیونکہ شریعت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر مبنی ہے: (ترجمہ)’’ اللہ سے ڈر اور جتنا تمہاری استطاعت میں ہو‘‘۔ {التغابن:۱۶} لہٰذا اگر چہرے کا ڈھانپنا اس کے لئے ممکن ہو اور قابل استطاعت ہو تو یہ واجب ہے ،اگر فساد اور نقصان کا اندیشہ ہو اور یہ خوف و اندیشہ بھی قوی ہو نہ کہ صرف وہم، کیونکہ بعض لوگ ان ممالک میں جاتے ہیں تو صرف وہم ساہوتاہے یعنی ہلکا سا اندیشہ ہوتا تو اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

 لہٰذااس کی وجہ سے حکم نہیں بدلے گا، ہاں اگر کوئی واقعی تکلیف پہنچے کا سخت ڈر ہو یا کسی بڑے فساد کا اندیشہ ہو تو بقدر ضرورت حکم میں تخفیف آجائے گی ، ایسی تخفیف جو کہ اہل اسلام کے دائرۂ کار کی حدود کے اندر ہو ۔

حا جت کی وجہ سے چہرے کا کھولنا جائز ہے اور فقہاء نے بھی مختلف مذاہب کے تحت اس کی صراحت کی ہے کہ حاجت اگر داعی ہو تو چہرہ مکشوف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

جہاں تک مخلوط نظام تعلیم میں پڑھائی کا تعلق ہے تو مجھے اس کے حاجت ہونے یا نہ ہونے کا علم نہیں ، البتہ یہ سنا ہے کہ بعض خواتین مخلوط ماحول میں جائے بغیر ہی پڑھائی کرتی ہیں یعنی لغت وغیرہ سیکھنا یا کوئی اور علم حاصل کرنا بغیر مردوں کے اختلاط کے بھی ممکن ہوتا ہے ، چونکہ اختلاط کا مطلب تو یہ ہے کہ باہم اٹھنا بیٹھنا اور کچھ وقت ساتھ بسرکرنا ہے ، اورعورت اپنی فطرت کے اعتبار سے کچھ کمزور ہے ، یہ کمزوری تما م عورتوں میں تو نہیں البتہ زیادہ تر عورتوں میں موجود ہے تو مجھے یہ ڈر ہے کہ اختلاط کی وجہ سے یہ عورت بھی کہیں متأثر نہ ہو جائے ، میرا مشورہ تو یہی ہے کہ اگر ایسی پڑھائی سے استغناء ممکن ہو تو أولیٰ یہی ہے کہ جب تک مخلوط نظام ہے تب تک کے لئے چھوڑ ہی دیا جائے ۔ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ۔

آپ کا بھائی

أ. د. خالد المصلح.

5 / 3 / 1434هـ

 

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف