الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ
آخر تحديث منذ 9 ساعة 7 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ آخر تحديث منذ 9 ساعة 7 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

گناہِ صغیرہ پر ڈٹے رہنا

مشاركة هذه الفقرة

گناہِ صغیرہ پر ڈٹے رہنا

تاريخ النشر : 2 جمادى آخر 1438 هـ - الموافق 01 مارس 2017 م | المشاهدات : 477

صد قابلِ احترام۔ السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔۔۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا گناہِ صغیرہ پر ڈٹے رہنے سے وہ کبیرہ بن جاتے ہیں ؟

الإصرار على الصغائر

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاتہ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

آپ کے سوال کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ اہلِ علم کے اس میں دو اقوال ہیں کہ کیا گناہِ صغیرہ پر ڈٹے سے وہ کبیرہ بنتے ہیں یا نہیں ؟

پہلا قول : یہ ہے کہ گناہِ صغیرہ پر جمے رہنے سے وہ کبیرہ بن جاتے ہیں، یہی ابن عباس ؓ کا موقف ہے، اور یہی ان کے علاوہ اکثر صحابہ اور اہلِ علم کا بھی مذہب ہے۔

دوسرا قول: یہ ہے کہ گناہِ صغیرہ پر جمے رہنے سے وہ کبیرہ نہیں بنتے۔

اور ان میں ہر ایک کے پاس ایسے دلائل ہیں جو ان کے مذہب کو تقویت دیتے ہیں لیکن ان دونوں میں زیادہ واضح و راجح پہلا قول ہے ،جو ابن عباسؓ سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں:  ’’گناہِ صغیرہ بار بار کرنے سے گناہِ صغیرہ نہیں رہتے بلکہ کبیرہ بن جاتے ہیں اور گناہِ کبیرہ توبہ و استغفار سے کبیرہ نہیں رہتے بلکہ معاف ہو جاتے ہیں‘‘۔  یہ حدیث کئی طرق سے مرفوعاً روایت کی گئی ہے لیکن ابن رجب اور باقی محدثین نے اسے ضعیف قرار دی ہے ۔

دوسری دلیل کے قائلین کا استدلال چند آیات قرآنی سے ہے جس میں صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کے درمیان فرق ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری چھوٹی برائیوں کا ہم خود کفارہ کر دیں گے اور تم کو ایک با عزت جگہ داخل کریں گے‘‘ ۔ (النساء:  ۳۱) ۔ اور جیسا کہ آپکا ارشاد گرامی ہے جو صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے حدیث نمبر (۲۲۳) میں مروی ہے کہ:  ’’ پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ان کے مابین کئے گئے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں جب تک کبیرہ گناہوں سے بچا جائے‘‘۔

باقی میرے نزدیک دوسرا قول ہی أقرب الی الصواب ہے، اور وہ یہ ہے کہ صغیرہ گناہ بار بار کرنے سے اور ان پر ڈٹے رہنے سے وہ کبیرہ نہیں بنتے، اب چاہے وہ تکرارِ گناہ عینِ صغائر میں سے ہو یا پھر جنسِ صغائر میں سے۔

باقی ابن عباسؓ وغیرہ سے جو منقول ہوا ہے وہ اس حالت پر محمول ہے جب وہ اصرار اللہ تعالیٰ کے حدود میں لا پرواہی اور کوتاہی اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں میں لا ابالی پن کے ساتھ اس پر دوام حاصل کرنا ہو، اور اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی تعظیم نہ کرتا ہو، اور یہ بلا شک و شبہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، البتہ اگر نفسانی خواہش غالب آ جائے اور اس کے ساتھ ساتھ خوفِ خدا ،عذاب اور باز پرس کا خوف بھی دامن گیر ہو تو پھر یہ کبیرہ گناہوں میں سے نہیں ہے۔

باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

20/ 9 /1428 هـ

مواد ذات صلة

مواد مقترحة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف