الاربعاء 21 رجب 1442 هـ
آخر تحديث منذ 47 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 21 رجب 1442 هـ آخر تحديث منذ 47 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

موت کی تمنا کرنا

مشاركة هذه الفقرة

موت کی تمنا کرنا

تاريخ النشر : 3 جمادى آخر 1438 هـ - الموافق 02 مارس 2017 م | المشاهدات : 828

بعض لوگ موت کی تمنا کرتے ہیں اگرچہ مزاح کیلئے ہی کیوں نہ ہو، یا پھر کبھی تو محبت ثابت کرنے کیلئے کرتے ہیں یا کسی مشکل سے خلاصی پانے کیلئے۔ اور بعض شعراء نے اپنے شعر میں ایسی باتیں جو اسی مذکورہ معنی میں ہوتی ہیں ذکرکرتے ہیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟

تمني الموت

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

نبیؐ نے کسی مصیبت کی وجہ سے بھی موت کی تمنا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ بخاری میں(۶۳۵۱) اور مسلم میں(۲۶۸۰) ابن علیہ عن صہیب بن عبد العزیز عن انسـؓ کے طریق سے روایت مذکور ہے کہ نبیؐ نے ارشاد فرمایا:((تم میں سے کوئی بھی کسی مصیبت کے آجانے کی وجہ سے موت کی تمنا مت کرے، اگر تمنا کرنی ہی ہے تو یہ کہے: اے اللہ جب تک میرے لئے زندگی میں خیر ہے مجھے زندہ رکھ اور اگر موت میں ہی میرے لئے خیر ہے تو مجھے موت دے دے))۔

یہ نہی موت کی دعا اس وقت کرنے پر محمول ہے جب کوئی مصیبت و پریشانی لاحق ہواور اللہ تعا لی کے فیصلے پر رضا مندی والی کیفیت نہ ہو بلکہ اس سے عدم رضا اور بے صبری کی وجہ سے تمنا کرے۔ اگر اس کے علاوہ دعا کسی اور مقصد کے لئے ہو تو اس مسئلہ میں دیکھا جائے گا۔ واللہ اعلم

مواد جديدة

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف