جس شخص کا روزہ ہو اور وہ اذان کے دوران کھائے اس کا کیا حکم ہے؟
صیام من اکل مع الاذان
جس شخص کا روزہ ہو اور وہ اذان کے دوران کھائے اس کا کیا حکم ہے؟
صیام من اکل مع الاذان
الجواب
حامداََ و مصلیاََ۔۔۔
اما بعد۔۔۔
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے جواب دیتے ہوئے ہم عرض کرتے ہیں کہ
اذان کے بارے میں اکثر شہروں میں اعتماد کیا جاتا ہے کلینڈروں پر،اورکلینڈروں میں اتنی باریکی نہیں ہوتی فجر کے وقت کے داخل ہونے اور سفید دھاگے کا کالے دھاگے سے واضح ہونے کے بارے میں یعنی فجر کے بارے میں۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں اس با ت کی طاقت نہیں رکھتا کہ میں یہ کہو کہ جو بندہ اذان کے وقت کھائے اور وہ اس وقت اذان کررہا ہے تو اس روزہ صحیح نہیں ہے ۔
لیکن اگر موذن اذان ایسے وقت میں دیتا ہوکہ فجر روشن ہوچکا ہوتواس کےلئے جائز نہیں ہے کہ وہ کھائے پیئے اور نہ کوئی ایسا کام کرے کہ جو روزہ کوتوڑنے والی چیزوں میں ہو کیونکہ فجر واضح ہوچکا ہے اوراللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اور کھاؤ پئیو یہاں تک کہ واضح ہو جائے کھالا دھاگہ سفید دھاگے سے یعنی فجر ہو پھرروزہ پوراکرورات تک)(البقرۃ:۱۸۷)۔ تو جب انسان کو یہ شبہ ہو جائے اور وہ احتیاط کرنا چاہے کیونکہ احتیاط کا باب وسیع ہے، اس کو چاہیئے کہ وہ احتیاط کرے اور رک جائے کھانے پینے سے لیکن جہاں تک روزے کی فساد اورعدم فساد کی بات ہے تو ہم یقین سے روزے کی فساد کے بارے میں نہیں کہہ سکتے کہ جو کھائے ایسے وقت میں کہ جب اذان ہورہی ہو۔ جب کہ موذن نے تو کلینڈر پر اعتماد کیا ہے۔