الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ
آخر تحديث منذ 9 ساعة 27 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ آخر تحديث منذ 9 ساعة 27 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

فوت ہوئے شخص کیلئے (رحمہ اللہ) کے الفاظ کہنا

مشاركة هذه الفقرة

فوت ہوئے شخص کیلئے (رحمہ اللہ) کے الفاظ کہنا

تاريخ النشر : 21 جمادى آخر 1438 هـ - الموافق 20 مارس 2017 م | المشاهدات : 423

فوت ہوئے شخص کیلئے (رحمہ اللہ) کے الفاظ کہنے کا کیا حکم ہے؟

حكم قول (رحمه الله) للمتوفى

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

اس میں کوئی حرج نہیں کہ کسی بھی زندہ یا مردہ شخص کیلئے "رحمہ اللہ"  یا  اللہ فلاں پر رحم کرے جیسے الفاظ کہے جائیں ، کیونکہ یہ جملہ خبر کے صیغہ کے ساتھ ہے جس کا مقصود دعا ہے نہ کہ خبر کہ اللہ اس پر رحم کرچکے۔ اس بات کی دلیل متعدد احادیث میں ملتی ہے، بخاری (۱۳۰۱) اور مسلم (۱۳۰۱) میں ابن عمر کی حدیث ہے کہ نبی ؐ نے فرمایا: ((اللہ حلق کرنے والوں پر رحم کرے)) اور بخاری (۶۳۳۵) میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے کہ نبیؐ نے ایک آدمی کو مسجد میں قرأت کرتے سنا تو فرمایا: ((اللہ اس پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلا دی جو میں بھول چکا تھا جو کہ فلاں سورت میں ہے))،  مسلم (۷۸۸) کی روایت میں ہے ((یرحمہ اللہ))۔

سلف کے کلام میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں، حضرت عائشہؓ نے حضرت عمر ؓ کی وفات کے بعد جب انہیں ان کا کوئی واقعہ یاد آیا تو فرمایا: اللہ عمر پر رحم کرے(رحم اللہ عمر)،  یہ حدیث بخاری میں ہے(۱۲۸۸)،  اسی طرح علیؓ کا قول ہے جو کہ بخاری (۳۶۷۷) نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں: میں لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا تو سب نے عمربن خطابؓ کیلئے دعا مانگی جبکہ انہیں جنازے کی چارپائی پررکھا جا چکا تھا، اچانک پیچھے سے کسی نے اپنا بازو میرے کندھے پر رکھا اور کہا: اللہ تم پر رحم کرے مجھے یہی امید تھی کہ اللہ تمہیں تمہارے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا کیونکہ میں نے رسول اللہؐ کو بارہا یہ کہتے سنا: میں ابوبکر اور عمر، میں نے ابوبکر اور عمر نے (فلاں کام) کیا، میں ابو بکر اور عمر گئے، تو مجھے یہی امید تھی کہ اللہ تمہیں تمہارے ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا، (ابن عباسؓ فرماتے ہیں) تو میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ علی بن ابی طالبؓ تھے۔

والله تعالى أعلم

آپ کا بھائی

خالد المصلح

13/01/1425هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف