الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ
آخر تحديث منذ 9 ساعة 34 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ آخر تحديث منذ 9 ساعة 34 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

مڈل سکول میں مختلط پڑھائی کا حکم

مشاركة هذه الفقرة

مڈل سکول میں مختلط پڑھائی کا حکم

تاريخ النشر : 22 جمادى آخر 1438 هـ - الموافق 21 مارس 2017 م | المشاهدات : 333

ایک لڑکی کی عمر ۱۴ برس ہے، تو کیا اس کیلئے مڈل سکول میں مخلوط نظام تعلیم میں پڑھنا جائز ہے؟ اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ یہاں تمام ادارے مخلوط ہیں اور یہ بچی گاؤن اوڑھتی ہے اور بڑی دیندار ہے اور اس نے ابھی تک مڈل سکول میں ایک دن بھی نہیں پڑھا کیونکہ اس کو کہا گیا تھا کہ مڈل میں مخلوط نظام تعلیم کے تحت پڑھنا حرام ہے

حكم الدراسة في الثانوية المختلطة

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

وہ ایسا سکول تلاش کریں جہاں اختلاط نہ ہو اور اگر نہ ملے تو یہ گھر میں ہی تعلیم کے طریقے پر پڑھے، اور یہ اسی لئے کہ اختلاط میں بہت زیادہ شر اور فساد کا اندیشہ ہے۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

22/11/1424هـ

مواد ذات صلة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف