السبت 12 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 1 ساعة 5 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 12 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 1 ساعة 5 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

مردوں کا عورتوں کو دعوت دینے کے بارے میں تنبیہات

مشاركة هذه الفقرة

مردوں کا عورتوں کو دعوت دینے کے بارے میں تنبیہات

تاريخ النشر : 22 جمادى آخر 1438 هـ - الموافق 21 مارس 2017 م | المشاهدات : 549

عورتوں کے فتنے سے بچنے کا کیا طریقہ ہے جبکہ ظاھرا تقرب محض دعوت کی وجہ سے ہو، اور اسی طرح ان کا ہمارے قریب ہونا جبکہ ہم جوان ہیں اور فتنے سے بچنا بڑا مشکل ہے؟

محاذير دعوة الرجال للنساء

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

بخاری (۵۰۹۶) اور مسلم (۲۷۴۰) میں اسامہ بن زیدؓ کی حدیث مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ((میں نے اپنے بعد مردوں پر عورتوں سے زیادہ نقصان دہ فتنہ نہیں چھوڑا))۔ تو عورتوں کے فتنے سے بچنے کا بہتریں طریقہ یہ ہے کہ ان سے دور رہا جائے، اور جہاں تک دعوت دینے کی بات ہے تو اگر کوئی عورت ہی اس فریضہ کو سر انجام دے دے تو یہی مطلوب ہے، اگر یہ صورت ممکن نہ ہو تو یہ دعوت کی ذمہ داری کوئی ایسا شخص اٹھائے جو دین میں مضبوط اور فتنہ کے اندیشہ سے دور ہو ، اور اس میں بھی وہ بقدر حاجت بات کرنے پر ہی اکتفاء کرے نہ کے لمبی گفتگو کرے۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

18/12/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف