عورت کا نماز تراویح کے لئے نکلنے کا کیا حکم ہے؟
خروج المرأة لصلاة التراويح
عورت کا نماز تراویح کے لئے نکلنے کا کیا حکم ہے؟
خروج المرأة لصلاة التراويح
الجواب
حامداََ و مصلیاََ۔۔۔
اما بعد۔۔۔
اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ
نماز خواہ وہ نفل ہو یا فرض اس کے لئے عورتوں کا نکلنا یہ ان امور میں سے ہیں کہ جس پر ہمارے سلف صالحین کا عمل تھا اور صحیحین کی حدیث میں ہے جو عبداللہ بن عمرؓ سے منقول ہے کہ نبیﷺنےفرمایا: (اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو) یعنی عورتیں، باندیاں عورتوں میں سے ہوتی ہے جو مردوں میں سے غلام کی ضد ہوتی ہیں ۔ اماء اللہ یہ امۃ کی جمع ہے اور امۃ اس باندی کو کہتے ہیں جس کو غلام بنایا جاتا ہے (اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو) یعنی نہ روکو ان کو مسجدوں میں جانے سے اور یہ روکنا ہر اس مسجد کی طرف آنے والے کو شامل ہے خواہ وہ فرض پڑھنے کے لئے ہو یا نفل پڑھنے بلکہ یہاں تک کہ اگر علم کی طلب کے لئے آتی ہو جیسا کہ علماء کی ایک جماعت نے کہا ہیں ۔ اوراس طرح مسجدوں میں علم کےحلقوں میں حاضر ہونے سے بھی نہیں روکا جائے گا ۔
لہذا یہ نہی ہر قسم کے روکنے کو شامل ہے خواہ وہ فرض نماز کے لئے ہو یا نفل نماز کے لئے ۔ اور اس میں سے نماز تراویح بھی ہے کیونکہ اگر اس کے لئے آنے کا بھی کسی عورت کو شوق ہو تو اس سے بھی نہیں روکا جائے گا ۔ اور ہمارے سلف کے مرد اور عورتیں اس نماز کے لئے حاضر ہوتے جیسا کہ سیر کی کتابوں میں مذکور ہے اور یہ سلف کے عمل سے منقول ہے ۔ بلکہ جس حدیث کو ہم نے ابن عمرؓ کے حوالے سے ذکرکیا ہے: (اللہ کی بندیوں کو اللہ کے مساجد سے نہ روکو) حضرت عمرؓ کی بیوی بھی نماز کے لئے آتی تھی تو اس کو کہا گیا کہ تم کیوں نماز کے لئے حاضر ہوتی ہو؟ جبکہ حضرت عمرؓغیرت مند آدمی ہے اوراس بات کو نہیں پسند فرمایئں گے کہ آپ نماز کے لئے نکلے ۔ انہوں نے کہا پھر کیا وجہ ہے کہ وہ مجھے نہیں منع کرتے ۔ یعنی حضرت عمر کے سکوت کو انہوں نے بطور دلیل پیش کیا کہ گویا انہوں نے مجھے اجازت دی ہے ۔ تو ان کو کہا گیا کہ وہ آپ کو نہیں روکے گا کیونکہ نبیﷺنے فرمایا ہے: (اللہ کی بندیوں کو نہ روکو اللہ کی مساجد سے) ۔