رمضان کے مہینے کی مبارک باد دینے کا کیا حکم ہے؟
التهنئة بشهر رمضان
رمضان کے مہینے کی مبارک باد دینے کا کیا حکم ہے؟
التهنئة بشهر رمضان
الجواب
حامداََ و مصلیاََ۔۔۔
اما بعد۔۔۔
اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:
مبارکباد کی کئی اقسام ہیں: ایک تو وہ مبارکباد جو دعا دینے کی صورت میں ہوتی ہے کہ اللہ آپ کو رمضان تک پہنچائے اور آپ کو اس مہینے میں روزے رکھنے اور قیام کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، اس طرح کی مبارکباد دینے میں کوئی حرج نہیں، حضرت انسؓ کی حدث میں آیا ہے:((اے اللہ ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت نصیب فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا)) اس حدیث کی سند میں کچھ کلام ہوا ہے لیکن اکثر اہل علم نے اس کی تصحیح کی ہے۔ جو بھی ہو یہ حدیث رمضان کی آمد کے موقع پر دعا دینے کے صحیح ہونے کی دلیل ہے، اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس عظیم مہینے میں لوگوں کو رغبت ہوتی ہے اور خیر حاصل کرنے کی امید بھی۔
دوسری قسم یہ ہے کہ رمضان کی آمد سے پہلے ہی اس کی مبارکباد دی جائے، تو یہ تو بلا شبہہ ایک غیر معقول سی چیز ہے کیونکہ رمضان تو ابھی آیا ہی نہیں تو یہ ایسی چیز کی مبارکباد دینا ہے جو کہ ابھی لاحاصل ہے، ایسے ہی جیسے میں آپ کو بیٹے کی مبارکباد اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی دوں تو یہ وقت سے پہلے ہی مبارکباد دینا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ آئے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ نہ آئے۔
حقیقت میں رمضان کے قریب مبارکباد دینا ایک عادت بن چکی ہے جو کہ لوگوں میں رائج ہے، اور ایسی چیز عموماََ مباحات کے تحت آتی ہے اور ممکن ہے کہ جو لوگ ابھی مبارک باد دے رہے ہیں وہ وقت کو اس طرح سے استعمال کریں کہ اپنے آپ کو رمضان کیلئے تیار کریں، تو اس میں ان شاء اللہ کوئی حرج نہیں، اب اس رمضان کی آمد کا ادراک ہونا یا نہ ہونا یہ اللہ کا فیصلہ ہے ہمارا اس سے کوئی سروکار نہیں