الاربعاء 4 رمضان 1442 هـ
آخر تحديث منذ 3 ساعة 31 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 4 رمضان 1442 هـ آخر تحديث منذ 3 ساعة 31 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

سرایت کر جانے والی خوشبو کے استعمال کا حکم

مشاركة هذه الفقرة

سرایت کر جانے والی خوشبو کے استعمال کا حکم

تاريخ النشر : 29 جمادى آخر 1438 هـ - الموافق 28 مارس 2017 م | المشاهدات : 425

سرایت کر جانے والی خوشبو کے استعمال کا کیا حکم ہے؟

استعمال الروائح النفاذة في رمضان

 

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

جمہور علماء کا کہنا ہے کہ ایسا تیل استعمال کرنا جس کی خوشبو ہے جیسا کہ ویکس وغیرہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ یہ نہ تو کھانے پینے کے زمرے میں آتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی ایسا معنی پایا جاتا ہے، اور انسان کے بدن یا اس کے پیٹ میں خوشبو کا پایا جانا روزہ ٹوٹنے کا حکم نہیں لگاتا، اسی وجہ سے فقہائے حنفیہ اور شافعیہ نے صراحت کی ہے کہ اگر کسی دوا کا لینا دینا ہو اور اس کا ذائقہ اسے پیٹ میں محسوس ہو تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا، بلکہ بعض نے تو یہ بھی کہا ہے کہ اگر برف ہاتھ میں ہو اور اس کی ٹھنڈک پیٹ میں محسوس ہو تو بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا، فقہائے حنابلہ کا قول بھی اسی کے قریب قریب ہے۔

روزہ ٹوٹنے کی بات اگر کی ہے تو فقہائے مالکیہ نے کی ہے ایسی خوشبو سے جو سرایت کر جاتی ہو، لیکن اس بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے، اس طرح کے اختلافات میں اصل مرجع اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((اور تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو تو اسے اللہ کہ طرف لوٹاؤ)) [الشوری:۱۰]، اس طرح کے مسئل میں مرجع کتاب اللہ اور سنت رسول ہی ہے، مگر کتاب اللہ، سنت رسول، اجماع سلف، اور قیاس صحیح کسی میں بھی اس طرح کی اشیاء سے روزہ ٹوٹنے کی دلیل نہیں ملتی۔

روزہ دار کیلئے جائز ہے کہ اس طرح کے تیل وغیرہ جن کی سرایت کر جانے والی خوشبو ہو استعمال کرے، چاہے استعمال ناک میں ہو یا یاتھ میں یا بدن کے کسی بھی اور حصہ میں استعمال ہو

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف