تیل اور دیگر جلد پر استعمال کرنے والے ٹانک [کریم] کے استعمال کا رمضان میں کیا حکم ہے؟
استعمال الدهون والمرطبات الجلدية في نهار رمضان
تیل اور دیگر جلد پر استعمال کرنے والے ٹانک [کریم] کے استعمال کا رمضان میں کیا حکم ہے؟
استعمال الدهون والمرطبات الجلدية في نهار رمضان
الجواب
حامداََ و مصلیاََ۔۔۔
اما بعد۔۔۔
اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:
تیل کا استعمال چاہے علاج کیلئے ہو، مساج کیلئے یا خوبصورتی کیلئے، روزہ دار کیلئے اس میں کوئی حرج نہیں اور نہ ہی یہ ورزے پر اثر انداز ہوتا ہے حتی کہ اگر وہ جلد میں سرایت بھی کر جائے کیونکہ روزہ دار کیلئے ممنوع کھانا اور پینا ہے، اور بدن کے مسام کا تیل میں سے کچھ اجزاء کا جذب کر لینا، چاہے تیل علاج کیلئے ہو، خشکی دور کرنے کیلئے یا خوبصورتی کیلئے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا، وجہ اس کہ یہ ہے کہ یہ نہ تو کھانے میں آتا ہے اور نہ ہی پینے میں، اب اگر ایسے ہی ہے تو روزہ ٹوٹنے کی دلیل کیا ہے؟ اسی وجہ سے روزہ دار کیلئے یہ جائز ہے کہ یہ تیل وغیرہ جسم کے کسی بھی حصے میں استعمال کر لے حتی کے وہ آئل بھی جو ہونٹوں پر خشکی اور پھٹن دور کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں اور یہ فتوی اہل علم کی متعدد لجنات نے صادر کیا ہے جن میں ہمارے شیخ عبد العزیز بن باز بھی شامل ہیں، اور شیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ بھی