روزہ دار اگر کلی کرے یا ناک میں پانی ڈالے اور پانی اس کے پیٹ میں چلا جائے تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟
إذا تمضمض الصائم أو استنشق فدخل الماء إلى جوفه فهل يفطر بذلك؟
روزہ دار اگر کلی کرے یا ناک میں پانی ڈالے اور پانی اس کے پیٹ میں چلا جائے تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟
إذا تمضمض الصائم أو استنشق فدخل الماء إلى جوفه فهل يفطر بذلك؟
الجواب
حامداََ و مصلیاََ۔۔۔
اما بعد۔۔۔
اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:
اگر روزہ دار کا ارادہ نہ ہو اور کلی کرنے یا ناک میں پانی ڈالنے کہ وجہ سے پانی اندر چلا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اس کا روزہ ٹھیک ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ روزہ توڑنے والے اسباب اختیار ، ارادے اور فی الوقت فعل کا علم ہونے سے ہی اثر انداز ہوتے ہیں ، لہذا یہ ضروری ہے کہ بوقت فعل اس کو اپنے روزہ توڑنے والے فعل کا پتہ ہو اور اس کا ارادہ بھی ہو اس کے ساتھ ساتھ وہ مغلوب الحال بھی نہ ہو۔ اب اگر ان شروط میں سے کو ئی شرط بھی مفقود ہوئی تو کوئی حرج والی بات نہیں اور روزہ برقرار ہے ، اور اگر کوئی شخص کلی کرے اور غلطی سے کچھ پانی اس کے پیٹ میں چلا جائے اور یہ اس کے مغلوب ہونے سے ہو یعنی غلطی سے ہو تو اس کا روزہ برقرار ہے اسی طرح ناک میں پانی ڈالنے کا معاملہ ہے، اور اس (کلی کے دوران ایسا ہونے پر) علماء کا اجماع ہے