×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / روزہ دار اگر کلی کرے یا ناک میں پانی ڈالے اور پانی اس کے پیٹ میں چلا جائے تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

روزہ دار اگر کلی کرے یا ناک میں پانی ڈالے اور پانی اس کے پیٹ میں چلا جائے تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ إذا تمضمض الصائم أو استنشق فدخل الماء إلى جوفه فهل يفطر بذلك؟

المشاهدات:1620

روزہ دار اگر کلی کرے یا ناک میں پانی ڈالے اور پانی اس کے پیٹ میں چلا جائے تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟

إذا تمضمض الصائم أو استنشق فدخل الماء إلى جوفه فهل يفطر بذلك؟

الجواب

 

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

اگر روزہ دار کا ارادہ نہ ہو اور کلی کرنے یا ناک میں پانی ڈالنے کہ وجہ سے پانی اندر چلا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اس کا روزہ ٹھیک ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ روزہ توڑنے والے اسباب اختیار ، ارادے اور فی الوقت فعل کا علم ہونے سے ہی اثر انداز ہوتے ہیں ، لہذا یہ ضروری ہے کہ بوقت فعل اس کو اپنے روزہ توڑنے والے فعل کا پتہ ہو اور اس کا ارادہ بھی ہو اس کے ساتھ ساتھ وہ مغلوب الحال بھی نہ ہو۔ اب اگر ان شروط میں سے کو ئی شرط بھی مفقود ہوئی تو کوئی حرج والی بات نہیں اور روزہ برقرار ہے ، اور اگر کوئی شخص کلی کرے اور غلطی سے کچھ پانی اس کے پیٹ میں چلا جائے اور یہ اس کے مغلوب ہونے سے ہو یعنی غلطی سے ہو تو اس کا روزہ برقرار ہے اسی طرح ناک میں پانی ڈالنے کا معاملہ ہے، اور اس (کلی کے دوران ایسا ہونے پر) علماء کا اجماع ہے


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات130209 )
6. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات64677 )
7. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات64522 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات56790 )
12. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات55809 )
13. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات54630 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات51860 )
15. حكم استعمال الفكس للصائم ( عدد المشاهدات46218 )

التعليقات


×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف