×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / اگر روزے کی قضاء میں تأخیر ہو جائے تو کیا اس کے ساتھ کھانا کھلانا ضروری ہے؟

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

اگر روزے کی قضاء میں تأخیر ہو جائے تو کا اس کے ساتھ کھانا کھلانا ضروری ہے؟ إذا تأخر عن قضاء الصيام فهل يشترط معه الإطعام؟

المشاهدات:2274

اگر روزے کی قضاء میں تأخیر ہو جائے تو کا اس کے ساتھ کھانا کھلانا ضروری ہے؟

إذا تأخر عن قضاء الصيام فهل يشترط معه الإطعام؟

الجواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

جمہور علماء کا مذہب تو یہ ہے کہ اس صورت میں اطعام ضروری ہے۔

اور دوسرا قول یہ ہے : کہ اطعام واجب نہیں اور زیادہ اقرب الی الصواب بھی یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اطعام کے بغیر قضاء کو واجب کیا ہے، ارشاد باری تعالی ہے: (تم میں سے جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو اور دنوں میں اتنی مدت پوری کر لے) [البقرہ:۱۸۴] اور صحیح میں حضرت عائشہؓ کی حدیث ہے کہ نبیؐ نے فرمایا: (( جو مرجائے اس حال میں کہ اس پر روزے واجب القضاء ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے)) آپؐ نے کھانا کھلانے کا ذکر نہیں کیا، اس میں عموماََ تمام روزے شامل ہیں چاہے کئی سال پرانے ہوں یا آخری سال کے ہوں


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات135909 )
6. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67996 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات67486 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات58572 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات57704 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56956 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات55130 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات48179 )

التعليقات


×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف