السبت 24 رجب 1442 هـ
آخر تحديث منذ 2 ساعة 18 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 24 رجب 1442 هـ آخر تحديث منذ 2 ساعة 18 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

شب قدر کی تلاش کا کیا حکم ہے اوراس بات کا یقین کرلینا کہ یہی رات متعین ہے؟

مشاركة هذه الفقرة

شب قدر کی تلاش کا کیا حکم ہے اوراس بات کا یقین کرلینا کہ یہی رات متعین ہے؟

تاريخ النشر : 8 رجب 1438 هـ - الموافق 05 ابريل 2017 م | المشاهدات : 758

شب قدر کی تلاش کا کیا حکم ہے اوراس بات کا یقین کرلینا کہ یہی رات متعین ہے؟

ما حكم تحري ليلة القدر، والجزم بأنها في ليلة معينة؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

اس میں کوئی شک نہیں کہ شب قدر کو طلب کرنااورتلاش کرنا یہ شریعت کا ایک امر ہے اور یہ ان چیزوں میں ہے جس کی مسلمانوں کے نفوس شوق رکھتی ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے اس رات میں قدرتی خصوصیات اور شرعی خصوصیات رکھی ہے جو نفس کو اس کا استقبال کرنے اور اس رات کو پانے کے لئے آمادہ کرتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (بے شک ہم نے شب قدرمیں اس قرآ ن کو اتارا)(القدر:۱) پھر فرمایا: (اور آپ کو کیا معلوم وہ شب قدر کیا ہے) اور اس کے بعد کچھ بیان اور تفصیل اس رات کے مرتبہ کے بارے میں آیا ہے: (شب قدر مہینوں ہزار سے بہتر ہے) اور اس کے کہنے والے اللہ تعالیٰ ہے اور وہ رب العالمین ہے جو کہ زمان اور مکان کے فضائل کوجانتا ہے ۔ (شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے) ۔

پھراس کے بعد اس کے تکوینی خصوصیات کو بیان فرمایا: (اس میں فرشتے اور روح اترتے ہیں) اور روح جبریل علیہ السلام ہے۔ (اپنے رب کی اجازت سے ہر کام کے لئے)

یعنی ہر اس چیز کا جس کا فیصلہ جو اللہ اس رات میں  مقدر کرتا ہے ۔ (وہ رات راپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک)

لہذا یہ وہ رات ہے کہ جس کو یہ مرتبہ اور یہ مکان ملا ہے، اس لئےضروری ہے کہ اس کی شوق اور رغبت ہو اور اس وجہ سے کوئی تعجب نہیں کہ آدمی ان تمام علامات کو ڈھونڈے جو اس رات پر دلالت کرتی ہو ۔ پھر بھی مناسب یہی ہے کہ رہنمائی لی جائے اور جہاں تک سنت سے ثابت ہے اس سے ہٹ کر پختہ یقین نہ ہو، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: (مجھ کو خواب میں یہ رات دکھائی گئی ہے اور پھر بھلا دی گئی) جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابو سعید خدریؓ،حضرت عائشہ اور ابن عباس ؓ اور صحابہؓ کی ایک جماعت سے یہ منقول ہے۔ یہ خواب دیکھنا دلیل ہے شب قدر پر۔ صحآبہؓ یہ افضل لوگ تھے ابن عمرؓ فرماتے ہیں جیسا کہ صحیحین میں ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: (میرا خیال ہے تم سب کے خواب آخری سات راتوں پر متفق ہو رہے ہیں لہذا جو اس کو تلاش کرنا چاہتا ہے تو آخری سات راتوں میں تلاش کرے) اس کا مطلب یہ ہے کہ خواب بہت زیادہ تھے اور ایک دوسرے کے مخالف بھی تھے لیکن نبیﷺنے ان کو جمع فرمایا اور اس کو سات راتوں میں محدود کیا ۔ لیکن کسی رات کے بارے میں یقین دہانی نہیں کی ۔

اور وہ چیز جس کو آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اس بارے میں یقین کر لیتے ہیں اور خطوط بھیجتے ہیں کہ فلان علامہ نےاس رات کو دیکھا جیسا کہ یہ مشاہدہ میں آرہا ہے اور وہ فلاں رات کو ہوگا لہذا اس طریقے سے یقین کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ نبیﷺاور وہ لوگ جنہوں نے یہ دیکھا وہ لوگ اشرف تھے اورانبیاء کے بعد دنیا کے سردار تھے ۔ تمام لوگوں میں سے باتوں کے اعتبار سے سچے تھے اور وہ صحابہؓ تھے کہ جن میں کسی نے بھی خواب پر یقین نہیں کیا بلکہ فرمایا: (میں سمجھتا ہوں کہ تمہارے خواب موافق ہوں گے) یعنی متفق ہونگے ۔ تو ایک نے دیکھا ستاویسویں میں اورایک نے پچیسویں میں اور ایک نے انتیسویں میں اور ایک نے تیسویں میں یعنی صرف ان آخری سات راتوں میں ۔ لہذا جو اس کو تلاش کرے اس کو چاہیئے کہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے ۔ اور مناسب یہ ہے کہ کسی خاص رات کا یقین نہ کیا جائے ۔

اور میں اپنے بھائیوں کو یہ تنبیہ کرتا ہوں کہ اس طرح یقین کر لینے کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہیں ۔ کیونکہ آپ پاس خط [میسج] آئے گا کہ جس میں یہ ہوگا کہ آج رات شب قدر ہے تو آج آپ میں چستی آجائی گی اور کل کو پھر کمزوری ہوگی ۔ پھر کوئی دوسراخط آئے گا تو کہے گا کہ ان میں کونسا سچا ہے یہ یا وہ ؟ تو مناسب یہی ہے کہ ان چیزوں میں نہ پڑے۔ اور ہم اس پر کفایت کریں گے جس پر نبیﷺنے اکتفاء فرمایا تھا ۔ اور کون ہمارے سامنے نتیجہ پیش کرے گا ؟ رسول اللہﷺ۔ جو کہ فرما رہے ہیں: میرا خیال ہے تم سب کے خواب آخری سات راتوں پر متفق ہو رہے ہیں لہذا جو اس کو تلاش کرنا چاہتا ہے تو آخری سات راتوں میں تلاش کرے ۔

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف